ہاں میں نے لہو اپنا گلستاں کو دیا ہے
مجھ کو گل و گلزار پہ تنقید کا حق ہے
میں یاد دلاتا ہوں شکایت نہیں کرتا
بھولے ہوئے اقرار پہ تنقید کا حق ہے
Zaib-Osh
اردو شاعری
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
__________
احمد فرازؔ
05/08/2021
کتنے دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
جون_ایلیا
بربادیِ دل جبر نہیں فیض کسی کا
وہ دشمنِ جاں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے
ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے
کیوں داد غم ہمیں نے طلب کی برا کیا
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے
گر فکر زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم
کیوں محو مدح خوبی تیغ ادا نہ تھے
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
لب پر ہے تلخی مئے ایام ورنہ فیضؔ
ہم تلخی کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
Teri Soorat Hai Aalam Main Baharon ko Sabaat,
Teri Ankhon K Siwa Dunia Mein Rakha Kia Hai...!
Faiz Ahmad Faiz
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا
کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا
اک تنکا آشیانہ، اک راگنی اثاثہ
اک موسمِ بہاراں، مہمان دو گھڑی کا
آخر کوئی کنارا اس سیلِ بےکراں کا
آخر کوئی مداوا اس دردِ زندگی کا
میری سیہ شبی نے اک عمرآرزو کی
لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا
شاید اِدھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہ
بیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بلب کبھی کا
اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں
مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بےرخی کا
اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیں
لیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا
او مسکراتے تارو! او کھلکھلاتے پھولو!
کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا
(مجید امجد)
مدت ہوئی کہ آپ نے دیکھا نہیں ہمیں...!!
.
مدت کے بعد آپ سے دیکھا نہ جائے گا....!!
جون ایلیا
گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے
ابھی کچھ دھوپ ہے لیکن، ذرا سی دیر کو طے ہے کہ آخر شام ہونی ہے
حقیقت یا کہانی جو بھی ہے انجام ہونی ہے
گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے
اگر طے ہے یہی ہونا تو پھر کس بات کا خدشہ، تو پھر کس بات کا رونا
چلو مل بیٹھ کر اپنے خسارے بانٹ لیں، سبھی رنگ اور جگنو اور ستارے بانٹ لیتے ہیں
گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے
ابھی کچھ دھوپ ہے لیکن ذرا سی دیر کو طے ہے کہ آخر شام ہونی ہے
حقیقت یا کہانی جو بھی ہے انجام ہونی ہے،
اگر طے ہے یہی ہونا تو کیوں نہ شام سے پہلے ، کسی انجام سے پہلے
بھلا کر ہر پریشانی کو، جھٹک کر ہر تکلف کو
جو کچھ گھڑیاں میسر ہیں ، انہی میں زندگی کر لیں،
کسی احساس کی شمعیں جلا کر ان اندھیروں میں کوئی دم روشنی کر لیں،
چلو ہم دوستی کر لیں، چلو ہم دوستی کر لیں۔۔ !!
گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے..
27/12/2017
کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی ضیا ہوتا
میں بھی ترے گلشن میں پھولوں کا خدا ہوتا
ہر چیز زمانے کی آئینہ دل ہوتی
خاموش محبت کا اتنا تو صلہ ہوتا
تم حال پریشاں کی پرسش کے لیے آتے
صحرائے تمنا میں میلہ سا لگا ہوتا
ہر گام پہ کام آتے زلفوں کے تری سائے
یہ قافلۂ ہستی بے راہنما ہوتا
احساس کی ڈالی پر اک پھول مہکتا ہے
زلفوں کے لیے تم نے اک روز چنا ہوتا
Click here to claim your Sponsored Listing.
