18/07/2020
اردو ادب
This page is all about urdu adab and great poets of urdu like Meer, Ghalib, Allama Iqbal, Faiz, Haali, Mohsin, Juan, wasi, Dard, saghar and etc.
18/07/2020
دوئی
بوئے خوش ہو، دمک رہی ہو تم
رنگ ہو اور مہک رہی ہو تم
بوئے خوش! خود کو رو برو تو کرو
رنگ! تم مجھ سے گفتگو تو کرو
وقت ہے لمحہ لمحہ مہجوری
چاہے تم میری ہم نشیں بھی ہو
ہے تمہاری مہک میں حزنِ خیال
جیسے تم ہو بھی اور نہیں بھی ہو
میرے سینے میں چُبھ رہا ہے وجود
اور دل میں سوال سا کچھ ہے
وقت مجھ کو نہ چھین لے مجھ سے
سرخوشی میں ملال سا کچھ ہے
میری جاں! ایک دوسرے کے لیے
جانے ہم ناگزیر ہیں کہ نہیں
تم جو ہو تم ہو! میں جو ہوں میں ہوں
دل ہوا ہے سکوں پذیر کہیں
جون ایلیا
ہمارا رنج تو ویسے بھی جوں کا توں رہے گا
مگر خدا تری توفیق میں اضافہ کرے
اظہر فراغ
جو تو نہیں ہے تو غم نہیں ہے ' یہ کم نہیں ہے
ہماری آنکھوں میں نم نہیں ہے ' یہ کم نہیں ہے
روایتِ مے کشی بدل دی نظر سے اُس نے
ہے قند ساغر میں سم نہیں ہے ،یہ کم نہیں ہے
کھلایا صحرا میں صورتِ گل جسے صبا نے
حضورِ گلچیں ،وہ خم نہیں ہے،یہ کم نہیں ہے
ہمیں بھی اس کے ستم کا شِکوہ نہیں ہے کوئی
اسے بھی زعمِ کرم نہیں ہے ' یہ کم نہیں ہے
میں اپنی خلوت میں محوِ نظّارگی ہوں لوگو
اگر فراغِ بہَـم نہیں ہے ' یہ کم نہیں ہے
وفورِ شعر و سخن کی لہریں ڈبو ہی دیتیں
جو شوقِ ناز و نعم نہیں ہے ' یہ کم نہیں ہے
یہاں ستائش ستم گری کی روا ہے لیکن
کسی کو دادِ کرم نہیں ہے. یہ کم نہیں ہے
سکوتِ شب کی دہائیاں تم گوارا کر لو
یہ شورِ شامِ الم نہیں ہے،یہ کم نہیں ہے
میں اس سے پہلے بھی آ چکی ہوں سحَرؔ جہاں میں
یہ میرا پہلا جنم نہیں ہے ' یہ کم نہیں ہے
*شائستہ سَحَرؔ*
غیر مطبوعہ
*اِنتِخاب*
ہارون اعوان
معصوم بچپن, گمراہ جوانی, محتاج بڑھاپا, اور بے رحم موت بس یہی ہے زندگی ..☺
مجھے راس ہیں ،برف لہجے ،اداس راتوں میں اذیت دیتی یادیں، تلخ مزاج لوگ،نام نہاد رشتے ضبط کے کڑوے گھونٹ اور ادھورا چاند
صبح بخیر زندگی۔۔۔۔
حاصِلِ سیرِ بے دِلاں ' کون و مکاں ' نہیں نہیں
کُوے حرم ' نہیں نہیں ' شہرِ بُتاں ' نہیں نہیں
جسم کی رَسمیات اَور ' دل کے معاملات اَور
بیعَتِ دست ' ہاں ضرور ' بیعَتِ جاں ' نہیں نہیں
درد کی کچھ بساط ہے ' جس پہ یہ پیچ و تاب ہو
دیکھ ' عزیز! صبر صبر ' دیکھ ' مِیاں ! نہیں نہیں
ہم فُقَرا کا نام کیا ' پھر بھی اگر کہِیں لِکھو
لَوحِ زمیں تو ٹھیک ہے ' لَوحِ زماں ' نہیں نہیں
دونوں تباہ ہو گئے ' ختم کرو یہ معرکے
اہلِ سِتم ' نہیں نہیں ' دِل زدَہ گاں نہیں نہیں
گرمیءِ شوق کا صِلہ ' دشت کی سلطنت غلَط
چشمہءِ خوں کا خُوں بہا جُوے رَواں ' نہیں نہیں
*عِرفانؔ صِدّیقی*
*اِنتِخاب*
ہارون اعوان
مجھ سے اونچا ترا قد ہے__ حد ہے
پھر بھی سینے میں حسد ہے_ حد ہے
میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے____ حد ہے
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے___ حد ہے
عشق میری ہی تمنا تو نہیں
تیری نیت بھی تو بد ہے__ حد ہے
زندگی کو ہے ضرورت میری
اور ضرورت بھی اشد ہے__ حد ہے
بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن
چاند بس ایک عدد ہے___ حد ہے
اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ تیرے ضبط کی حد ہے ؟ حد ہے
روکتے کیوں نہیں اس کو جاذّل٘
یہ جو سانسوں کی رَسّد ہے ، حد ہے
شاعر_____ جیم جاذّل٘
مَیں کیا بتاؤُں، مِری کس سے بات ہو رہی تھی
کہ ہم کلام ابھی کائنات ہو رہی تھی
سُنا ہے، جب مِری بستی میں دن نکل رہا تھا
تو ایک اَور جزیرے میں رات ہو رہی تھی
ســتارگانِ فلک کے جِــلَو میں ، رات گئے
مَہِ دُو ہفتہ کی رُخصت برات ہو رہی تھی
تمام خَلقِ خُدا سو رہی تھی جس لمحے
کہیں قریب ہی اِک واردات ہو رہی تھی
کچھ اِس لیے مِری باتیں پسند آئِیں اُسے
کہ بات بات ہی میں نفیِ ذات ہو رہی تھی
ابھی ابھی تو یہِیں تھا، کہاں چلا گیا مَیں؟
ابھی ابھی تو مِری خود سے بات ہو رہی تھی
عجیب شب تھی کہ ساحِرؔ گلی کی نُکّڑ پر
دُو اَہلِ دِل میں مُلاقات وات ہو رہی تھی
*پرویز ساحِرؔ*
از:-آئینہ، چراغ اور ستارہ
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئینگے،
غم زیادہ ہیں،لِفافے میں نہیں آئینگے،
ھم نہ مجنوں ہیں،نہ فرہاد کے کُچھ لگتے ہیں،
ھم کِسی دشت تماشے میں نہیں آئینگے،
مختصر وقت میں،یہ بات ھو نہیں سکتی،
درد اِتنے ہیں،خُلاصے میں نہیں آئینگے،
اُسکی کچھ خیر خبر ھو توبتائو یارو،
ھم کِسی اور دلاسے میں نہیں آئینگے،
جِس طرح آپ نے بیمار سے رُخصت لی ھے،
صاف لگتا ھے،جنازے میں نہیں آئینگے
خالد ندیم شانی
10/06/2018
Click here to claim your Sponsored Listing.
