آج کی بات حقیقت
سوال
بے شک موت سب کو مقدر ہے لیکن اس سے پہلے تو زندگی ہے پھر آپ نے اسے موت سے مرکب کیوں کہا ؟ برائے مہربانی خالص حیات کی بھی وضاحت فرما دیں ۔
جواب
جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اس کی صورت یہی ہے کہ وہ ہمیشہ موت سے بغلگیر یا اس کی ہمنشین یا ہم کنار یا اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے موت کہیں باہر سے نہیں آتی وہ اسی زندگی کی ایک خاصیت ہے جو ابھر کر سامنے آجاتی ہے
تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بھوک لگنا پیاس لگنا تھکن کا احساس ہونا ، سُستی طاری ہونا اعضا کا مضمحل ہو جانا سردی لگنا گرمی لگنا اضطراب محسوس ہونا درد ہونا وغیرہ یہ سب مرنے کا عمل ہے جو شروع ہو جاتا ہے اور زندہ رہنا اسی کو کہتے ہیں کہ ہم مسلسل صبح تا شام اور شام تا صبح اس عمل کو روکتے اور اس کا تدارک کرتے رہتے ہیں گویا موت ہزار راستوں سے ہماری طرف بڑھتی ہے اور ہم مسلسل اسے دفع کرتے رہتے ہیں اسی کیفیت میں زندگی آگے بڑھتی ہے اور جب ہم دفع نہیں کر پاتے تو موت زندگی پر غالب آجاتی ہے
ہماری زندگی ہمیشہ موت کی طرف مائل رہتی ہے جیسے وہ اس کی منزل ہو شاید اسی لئے قرآنِ مجید میں موت کی تخلیق کا ذکر حیات سے پہلے آیا ہے (خلق الموت و الحیاة ۔۔۔ سورة الملک) کیونکہ ہدف یا منزل پہلے ہوتی ہے اور پھر اس کی طرف رخ کیا جاتا ہے موت کے ساتھ ہماری حیات کا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ جب تک ہم اپنے روز مرہ کا ایک بڑا حصہ "جزوی موت" (یعنی نیند) سے ہمکنار نہ ہو جائیں اس وقت تک نئی طاقت و توانائی حاصل نہیں ہوتی گویا موت سے حیات حاصل ہوتی اور قوت پکڑتی ہے یہ بہت عجیب و غریب تعلق ہے یہ سب اس بات کے شواہد ہیں کہ زندگی موت سے مرکب ہے ۔
خالص حیات کا تجربہ اِس دنیا میں مشکل ہے یہاں موت و حیات آپس میں مخلوط ہیں انہیں باہم شِیر و شکر سمجھئے یا دست و گریباں یہ آپ کی مرضی مگر ایک کے بغیر دوسرے کا تصور ممکن نہیں خالص حیات وہ ہوتی ہے جب زندگی موت سے مرکب نہ ہو نہ موت کی طرف مائل ہو جب وہ وجود کا جزوِ لا ینفک ہو جب زندگی کے لئے جتن نہ کرنے پڑتے ہوں جب جسم رو بہ زوال نہ ہو اور قلب و روح میں اضطراب نہ ہو مادی و معنوی نعمتوں کو بھی اندیشہء زوال نہ ہو جب کھانا اور پینا بھوک اور پیاس اور زندگی برقرار رکھنے کی وجہ سے نہ ہو بلکہ لذتِ کام و دہن کے لئے ہو ایسی خالص حیات تو جنت ہی میں میسر ہو گی ، جس کی نعمتوں کے بارے میں کہا گیا ہے "لا مقطوعة و لا ممنوعة" وہی حیاتِ خالص ہے یعنی زندگیءِ جاوید "ھم فیھا خالدون" ۔
Nehjull Balaghan khutba e Mola Ali as
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Nehjull Balaghan khutba e Mola Ali as, Lahore.
this page is islamic and informative content ahlebait se muhabbat farameen daras ikhlaq muhabbat masawat taraz e Zindagi Bhai Bhai islamic aqwal and A lot of love 💝💝💝
السلام وعلیک یا صاحب الزمان
🌷السلام وعلیک یا حجۃ اللہ🌷
اے ظاہر و دلائل کے فرزند اے سدھے راستے کے فرزند اے عظیم جز کے فرزند ،اے اس ہستی کے فرزند جو خدا کے ہاں ام الکتاب ہیں ،اے واضح و روشن آیات کے فرزند ،اے کامل حجتوں کے فرزند ،اے بہترین نعمتوں کے فرزند ،اے طہ و محکم آیتوں کے فرزند اے یاسین و ذاریات کے فرزند ،اے طور و عادیات کے فرزند
العجل العجل العجل مولائ صاحب الزمان
💞اللھم عجل لولیک الفرج 💞
اَلسَّلامُ عَلَیکَ یا مَولانا یا صاحِبَ الزَّمان
اَلسَّلامُ عَلَیکَ یا خَلیفَةَ الرَّحمنِ
اَلسَّلامُ عَلَیکَ یاشَریکَ القُرانِ
عَجَّلَ اللهُ تَعالی فَرَجَهُ وَ سَهَّلَ اللهُ مَخرَجَهُ
السلامُ علیک یا بقیة الله
ؑ
امام باقر علیہ السلام:
"غدیر کے دن کی سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ مؤمنین میں علیؑ کی ولایت کو بیان کیا جائے۔"
(کافی، ج4، ص149)
رسول اللہ ﷺ:
جس نے غدیر کے دن علیؑ کی ولایت کو مانا، میں قیامت میں اس کا ضامن ہوں۔"
(الاحتجاج، طبرسی، ج1، ص56)
امام علی علیہ السلام:
"غدیر کے دن زمین و آسمان کے فرشتے بھی ہمارے شیعوں پر درود بھیجتے ہیں۔"
(بحار الانوار، ج37، ص 172)
امام حسن عسکری علیہ السلام:
"جس نے غدیر کے دن ایک مسکین کو کھانا کھلایا، اللہ اسے جنت میں رسولؐ کا پڑوسی بنائے گا۔"
(الاختصاص، ص289)
امام باقر علیہ السلام:
اللہ نے غدیر کے دن علیؑ کو مومنین کا قائد مقرر کیا، اور جس نے اس کی اطاعت کی وہ نجات پا گیا۔"
(البرهان فی تفسیر القرآن، ج2، ص 502، ذیل آیہ: [المائدة: 67])
امام علی نقی علیہ السلام:
"غدیر کا دن، ہر دور میں نیک بندوں کے لیے خوشی، عبادت اور شکر کا دن رہا ہے۔"
(مصباح المتهجد، شیخ طوسی، ص736)
Click here to claim your Sponsored Listing.
