AZAD UmidWar

AZAD UmidWar

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AZAD UmidWar, Political Party, Riyadh.

ایک ایسا پاکستان جہاں حق اور انصاف محض نعرہ نہ ہوں بلکہ عملی حقیقت بنیں۔
جہاں تعلیم اور صحت بنیادی سہولتیں ہوں، اور عام شہری خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کرے۔
کرپشن سے پاک نظام، جواب دہ قیادت اور خدمت کو ترجیح دینے والا معاشرہ۔
🇵🇰

15/05/2026

‏ایک مراثی کو سزائے موت ہو گئی:
بادشاہ نے پوچھا مرنے سے پہلے کوئی آخری خواہش ہو تو بتاؤ؟

مراثی: میں ایک ایسا فن جانتا ہوں جو کبھی آزما نہ کر سکا، چاہتا ہوں مرنے سے پہلے ایک بار آزما لوں۔

بادشاہ نے جب تفصیل پوچھی تو مراثی بولا، میں دو سال میں آپ کے گھوڑے کو اُڑنا سکھا سکتا ہوں۔

بادشاہ چونکہ وعدہ کر چکا تھا، اس لیے دو سال کی مہلت دینا پڑ گئی۔

کسی نے مراثی سے پوچھا، دو سال تو لے لیے، مگر گھوڑا کیسے اُڑاؤ گے مراثی: مجھے گھوڑا اڑانا تو آتا نہیں، ممکن ہے کہ دو سال میں شاید بادشاہ مر جائے، یا میں خود مر جاؤں، یا پھر گھوڑا ہی مر جائے ہمارے لنڈے کے ارسطو صاحب بھی تقریباً ایسی ہی فلم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پہلے کہتے تھے بس ایک سال میں معیشت ٹھیک کر دیں گے۔پھر کہا بس اسلحے کے معاہدے ہونے کی دیر ہے۔اور اب کہہ رہے ہیں اگلے پچیس سال میں معیشت کو بہتر بنانا ہوگا۔ممکن ہے کہ اگلے پچیس سال میں، بادشاہ مر جائے یا خود ارسطو مر جائے، یا پھر ان کے ہاتھوں ملک ہی گھوڑے لگ جائے….!!🤔☹️

14/05/2026

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ وَسَلَّمْتَ عَدَدَ مَا فِي عِلْمِكَ وَعَدَدَ مَا تُحِبُّ وَتَرْضٰى

Photos from AZAD UmidWar's post 14/05/2026

‏کیا آپ کو انڈیا کی یہ مسکان لڑکی یاد ہے
جس کے حجاب پہننے پر بی جے پی کے غنڈے اس کا پیچھا کرتے ہیں اور جے شری رام کے نعرے مارتے ہیں جس پر یہ لڑکی ڈرتی نہیں بلکہ سامنے سے آ کر اللہ اکبر کے نعرے مارتی ہے کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت تھی اور اس کے حجاب اور برقعے پر کالجوں میں پابندی لگا رکھی تھی اب وہاں گانگریس کی حکومت آ گی ہے اور اس نے یہ پابندی ختم کر دی ہے

14/05/2026

‏سر جی : میرے شوہر سے میری جان چھڑوا دیں ۔۔۔ ایک خاتون آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا کے پاس ایسا مسئلہ لے آئی کہ سکھیرا صاحب سمیت تمام موجود افسران بھی سوچ میں پڑ گئے ، کیا کریں کیا نہ کریں ۔۔۔۔۔
خاتون کے بقول : ہماری شادی کو کئی سال گزر گئے بچے بھی جوان ہو رہے ہیں لیکن شوہر کی پرانی عادت ، باہر منہ مارنا نہیں چھوڑا ، پہلے تو مرد کی عمومی عادت سمجھ کر چپ رہی لیکن اب سوچتی ہوں کہ کل کو بچوں کی شادیاں کرنی ہیں ۔ کس منہ سے کسی سے بیٹوں کا رشتہ مانگوں گی کون ہماری بیٹی بیاہنے آئے گا جب کہ حالات پوری برادری کے علم میں ہیں ۔۔۔۔ تحفظ کے لیے میرے پاس پھوٹی کوڑی نہیں میرا 15 تولے زیور بھی کاروبار کے نام پر لے لیا ، مکان بھی اسکے نام پر ہے ، کاروبار سے جو آتا ہے اس میں سے گھر کے خرچے اور بچوں کے اخراجات کے علاوہ کچھ نہیں دیتا ۔۔۔میں نے والد کی منت کی کہ اسے سمجھائیں ، سسرال والوں کو بھی کہا سب نے اسے سمجھایا مگر میسنا بن کر ہنس پڑتا ہے اور کہتا ہے چلو آئندہ نہیں ہو گا مگر پھر چند دن بعد اسکی یہی حرکتیں ہوتی ہیں ، کل رات بھی اپنی معشوق کے پاس رہا صبح گھر آیا ۔۔۔۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ شوہر سے طلاق لے لوں اور بچوں کے سہارے باقی زندگی آزاد رہ کر گزاروں شاید بچے اپنا اور میرا مستقبل روشن کردیں ۔۔۔۔۔۔
خاتون کی بات سن کر سکھیرا صاحب نے کہا : میرا مشورہ ہے کہ طلاق نہ لو ، اپنے گھر میں جم کر بیٹھی رہو ، دفع کرو اسے جو کرتا ہے کرنے دو۔۔۔ اگر ہم اسے یہاں بلائیں گے ، فریق بازی ہو گی تو آخر تمہیں طلاق مل جائے گی مگر میں چاہتا ہوں طلاق یافتہ کا لیبل نہ لگاؤ اپنے ماتھے پر ۔۔۔ مرد کے بغیر بچوں والی عورت اور باپ کے سائے کے بغیر بچوں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی ، سو مسائل ہوتے ہیں ۔ جب کہ تمہارے پاس یا تمہارے نام پر کچھ بھی نہیں ۔۔۔ ایک والد یا بڑے بھائی کی جگہ میں مشورہ دونگا کہ نباہ کرو ۔۔ اللہ سب کام آسان کرنے والا ہے اور وہ سب دیکھ رہا ہے ۔۔۔ حالات بدلتے اور مشکلات ختم ہوتے دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔ جاؤ بیٹا کچھ ہفتے سوچو ، اگر دل نہ مانے۔ گزارہ نہ ہو میرے پاس آجانا ۔۔۔۔ پھر تم جو چاہو گی ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
اب آپ بتائیں ۔ سکھیرا صاحب کا مشورہ درست ہے یا خاتون کے مسئلے کا کوئی اور حل بھی ہے ؟؟
Dua

14/05/2026

حکومتوں سے گلے شکوے کرنے والی عوام اپنا احتساب بھی تو کرے
یہ دو تصویریں نہیں دو کہانیاں ہیں معاشرے کی ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت
ایک طرف غلام رسول پاکستانی صاحب ہیں جنہوں نے اب تک بیس لاکھ سے زائد درخت لگا کر ماحول کو بچانے کے لیے دن رات محنت کی ہے خاموشی سے بغیر کسی ہائپ کے ملک اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں
دوسری طرف نیشا پومی صاحب ہیں ایک ہی لائن Nisha Pomi you from پر چالیس لاکھ سے زائد ویڈیوز بن چکی ہیں جاہل مزاج عوام کے ہیرو بن چکے ہیں حکومت پروٹوکول دیتی ہے میڈیا کور کرتا ہے اور لوگ ان کے پیچھے پاگل ہیں
ایک شخص جو درخت لگا کر ملک کا مستقبل سنوار رہا ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں
دوسرا شخص جو ایک بے معنی لائن سے مشہور ہوا اس کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے
یہ ہمارا معاشرہ ہے
جب تک ہم سنجیدہ نہیں ہوں گے برے کو برا اور اچھے کو اچھا کہنے کی ہمت نہیں کریں گے تب تک بربادی ہی ہمارا مقدر رہے گی
ترجیحات بدلیں ہیروز بدلیں ورنہ شکوے کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا
آئیے آج ہم اپنے حقیقی ہیرو کو خراج تحسین پیش کریں اور انکے لیے استقامت کی دعا کریں
غلام رسول پاکستانی کے لیے محبتوں بھرا ایک جملہ ضرور لکھیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ذی شعور لوگ ان سے بہت پیار کرتے ہیں❤️

14/05/2026

‏اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ اچانک سندھ پولیس کا ضمیر جاگ گیا ہے اور انہوں نے منشیات کی ملکہ پنکی کو گرفتار کر لیا، تو ایسی کوئی بات نہیں۔
دعا دیں ایم این اے اعجاز جاکھرانی کے بیٹے کو، جو منشیات کی دلدل میں ذلت بھری موت کا شکار ہوا۔ اسی واقعے کے بعد پنکی جیسی بااثر منشیات فروش گرفتار ہوئی ہے۔

ورنہ اس ملک میں کتنے ہی غریبوں کے بچے نشے کی لعنت کا شکار ہوتے رہے، مگر آج تک کسی حکومت نے سنجیدگی سے توجہ دی؟

جس سطح کا دباؤ پولیس پر ڈالا گیا ہے، اور جس حد تک پنکی کی رسائی بتائی جا رہی ہے، یہ دراصل دو طاقتور حلقوں کی لڑائی معلوم ہوتی ہے۔

خبروں پر نظر رکھیں، ممکن ہے جلد ایسی خبر بھی سامنے آئے کہ:

"عدالت لے جاتے ہوئے ملزمہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گئی۔"

13/05/2026

‏ہمیں اگلے 25 سال میں معیشت کو مضبوط بنانا ہو گا۔ احسن اقبال

آپ کو بتاتا چلوں کہ احسن اقبال کی ابھی عمر 67 سال ہے اور انہیں سیاست کرتے ہوئے تقریباً 46 سال ہو گئے ہیں۔
اب آپ اِس نئے منصوبے پر اپنی رائے دے سکتے ہیں کہ 25 سال بعد احسن اقبال کہاں ہوں گے اور پاکستان عوام کہاں؟

11/05/2026

‏کہتے ہیں ایک بادشاہ کسی مراثی کی بات پر بہت خوش ہوا۔ اُس نے میراثی کو دو قیمتی تلواریں تحفے میں دے دیں۔ میراثی نے دونوں تلواریں جوڑ کر چمٹا بنوا لیا اور گانے بجانے لگ پڑا۔

ن لیگ کو حب الوطنی کا ٹھیکیدار اور باقی پورے ملک کو غدار قرار دے کر یہی کیا گیا ہے۔ انجام آپ کے سامنے ہے۔

10/05/2026

‏آپ کو شاید لگ رہا ہو کہ یہ لوگ 415 روپے کے مہنگے پیٹرول کے خلاف احتجاج کرنے نکلے ہیں۔
لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ مردہ ضمیر اور تماش بین قوم ٹک ٹاکر رجب بٹ کی ایک جھلک دیکھنے آئی ہے۔
قوموں کی ترجیحات ہی ان کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟

09/05/2026

‏کیا عالمی جنگ ہونے والی ہے یا ممالک میں خونریز بغاوتیں جنم لینے والی ہیں ( اسے سیاسی مخالفت یا دلچسپی سے ہٹ کر پڑھیں)
اس سال سورج پر sun spot یعنی شمسی دھبوں کی تعداد اور شدت تمام سائنسی پیشگوئیوں سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
سورج اپنے 11 سالہ چکر solar cycle کے عروج یعنی solar maximum کے قریب ہے۔
سورج کی سطح پر ان دنوں بہت بڑے سیاہ دھبے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ اتنے بڑے ہیں کہ وہ زمین کے رقبے سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہ مقناطیسی سرگرمی کے مراکز ہوتے ہیں اور یہیں سے بڑے دھماکے جنم لیتے ہیں
حالیہ دنوں میں سورج سے نکلنے والے طاقتور شعلوں (Solar Flares) اور مادے کے اخراج کی وجہ سے زمین پر طاقتور جغرافیائی مقناطیسی طوفان (Geomagnetic Storms) آئے ہیں۔ ​سورج کی اس شدید سرگرمی کی وجہ سے زمین پر ہائی فریکوئنسی (HF) ریڈیو سگنلز میں خلل پڑا ہے
آپ دیکھنا چاہیں تو
​اگر فضا میں تھوڑی دھول یا بادل ہوں تو طلوع اور غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی رنگت میں زیادہ گہرا نارنجی یا سرخ رنگ نظر آ رہا ہے جو کہ شمسی ہواؤں (Solar Winds) اور فضائی ذرات کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے
اسی وجہ سے گزشتہ دنوں راتوں میں بھی heat burst کی وارننگ جاری کی گئی تھیں

ناسا اور دیگر اداروں کے مطابق حالیہ سولر سائیکل 25 خاصا کمزور ہونا تھا مگر 2024 اور 2025 کے بعد 2026 میں بھی اس کی شدت ہر تخمینے سے زیادہ ہے

اس پس منظر میں دیکھنے کیلئے

​ڈاکٹر بشیر الدین محمود نے اپنی کتاب Cosmology and Human Destiny میں گزشتہ 400 سالہ انسانی تاریخ کی عملی سٹڈی کے ساتھ یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ سورج سے نکلنے والی برقی مقناطیسی لہریں اور شمسی طوفان انسانی نفسیات اور اجتماعی رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور ہائی سولر ایکٹیویٹی کے دوران انسانی اعصابی نظام میں تناؤ اور ہیجان بڑھ جاتا ہے، جو عالمی سطح پر بے چینی، انقلابات یا بڑی جنگوں کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے 400 سالہ تاریخ کا جائزہ پیش کیا اور سولر ایکٹویٹی اور زمینی واقعات کا ایک دوسرے سے تعلق ثابت کیا ان کے نزدیک جب کائناتی توانائی کا بہاؤ زمین کی طرف بڑھتا ہے، تو یہ انسانی ارادوں اور فیصلوں میں شدت پیدا کر دیتا ہے۔

​3. کیا 2026 جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے؟
​سائنس دان عام ایسے واقعات کو صرف تکنیکی اثرات (جیسے سیٹلائٹ کی خرابی یا پاور گرڈ کی بندش) تک محدود رکھتے ہیں۔ تاہم یہ نکتہ کہ "2026 میں اتنی شمسی سرگرمی متوقع نہیں تھی"، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قدرت کا نظام انسانی حساب کتاب سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگر سورج کی یہ غیر متوقع شدت جاری رہتی ہے تو Cosmic influences زمین پر کسی بڑی تبدیلی یا تصادم کی نشان دہی ہو سکتے ہیں
​اور یہ خونریز عالمی جنگ یا کئی ممالک میں بڑے پیمانے پر خونریز بغاوت کی نشان دہی ہو سکتی ہے

Want your business to be the top-listed Government Service in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

Riyadh