Kingston School For Inclusive Education Abbottabad Pakistan

Kingston School For Inclusive Education Abbottabad Pakistan

Share

I am running an inclusive education school since last 27 years. Teaching is my passion.

I joined this profession due to the aim and to bring positive change in the system as well as in education sector کنگسٹن سکول ! ایک ایسا ادارہ ہے جس نے عرصہ 24سال میں محدود وسائل میں شمولیاتی تعلیم ( معذور اور نارمل بچے ) ایک ساتھ کلاس نرسری سے میٹرک تک تعلیم و تربیت، کھیلوں کی تربیت ، اسپیچ تھراپی ، فیزیو تھراپی ، حاصل کرتے ہیں ۔ پاکستان بھر سب سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔
پاکستان اسپیشل ا

Photos from Kingston School For Inclusive Education Abbottabad Pakistan's post 12/06/2026

26 سال سے آٹزم اور خصوصی بچوں کی بحالی کے شعبے میں کام کرتے ہوئے مجھے والدین، مختلف اداروں اور سرکاری سطح پر بے شمار اعزازات اور سرٹیفکیٹس ملے۔ لیکن شمع بصیر کے والد، جو خود ایک معزز جج ہیں، کی جانب سے دیا گیا یہ سرٹیفکیٹ میرے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
یہ صرف ایک تعریفی سند نہیں بلکہ آٹزم کے شعبے میں میری جدوجہد، تحقیق اور خدمت کا اعتراف ہے۔ یہ اللہ پاک کا خصوصی کرم ہے ۔
Muhammad Irfan
Founder & Principal
Kingston School for Inclusive Education
"Every autistic child has potential; our mission is to discover it, nurture it, and help it shine." ✨

Photos from Kingston School For Inclusive Education Abbottabad Pakistan's post 05/06/2026

آج ہمارے کنگسٹن اسکول میں عید ملن پارٹی تھی، اور مجھے یہ کہنا ہے کہ اصل عید تو ہمارے اسپیشل نیڈ بچوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ان کی معصومیت، خالص خوشی اور سچی محبت میں ایک الگ ہی بات ہے۔ اس عید کا اپنا ہی مزہ ہے!
ڈاکٹر محمد عرفان
اسپیشل ایجوکیشنسٹ گولڈ میڈلسٹ

05/06/2026

سید ظیمر حسین شاہ بتاتے ہیں کہ تین سال پہلے، میرا بیٹا سید اویس شاہ ایک نان وربل آٹسٹک بچہ تھا، ہائپر ایکٹو تھا، اس کا کوئی فنکشنل اسکل نہیں تھی۔ وہ بول نہیں سکتا تھا، خود کھانا نہیں کھا سکتا تھا، کپڑے پہننے میں بھی مدد کی ضرورت تھی، اور ٹوائلٹ ٹریننگ بھی نہیں تھی۔ لیکن اب 3 سال کنگسٹن سکول کی مدد سے، اس نے نہ صرف اپنی فنکشنل سپیچ حاصل کی، بلکہ آج وہ پہلی کلاس کا نصاب پڑھ رہا ہے۔ یہ تبدیلی ایک معجزے سے کم نہیں، اور میری فیملی کے لیے یہ خوشی کا سب سے بڑا لمحہ ہے۔ اگر آپ بھی اپنے بچے کی امید تلاش کر رہے ہیں، تو کنگسٹن سکول آپ کے لیے بہترین جگہ ہے۔

ڈاکٹر محمد عرفان، گولڈ میڈلسٹ، اسپیشل ایجوکیشنسٹ، ماہر تعلیم و نفسیات، 26 سالہ تجربہ









01/06/2026

کبھی کبھی ایک ماں کی محبت وہ معجزہ کر دکھاتی ہے جسے دنیا ناممکن سمجھتی ہے۔
یہ کہانی ایسی ہی چند بہادر ماؤں اور ان کے آٹزم سے متاثر بچوں کی ہے، جنہوں نے ہمت، صبر اور مسلسل محنت سے اپنی زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ان بچوں میں ایک بچہ ایسا بھی تھا جو غیر زبانی (Non-Verbal) تھا، شدید ہائپر ایکٹیو تھا، اور عام تعلیمی ماحول میں شامل ہونا ایک خواب لگتا تھا۔ لیکن ماں کی انتھک کوششوں، درست تربیت، اور مسلسل رہنمائی نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔آج وہی بچہ نہ صرف اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے بلکہ مین اسٹریم تعلیمی نظام کا حصہ بن کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک بچے کی کامیابی نہیں، بلکہ ہر اُس ماں کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنے خاص بچے کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات جدوجہد کر رہی ہے۔
یاد رکھیں، آٹزم اختتام نہیں، ایک مختلف سفر کا آغاز ہے۔ صحیح رہنمائی، بروقت مداخلت، اور خاندان کے تعاون سے بہت سی مثبت تبدیلیاں ممکن ہیں۔ہر بچے میں صلاحیت موجود ہے، ضرورت صرف اسے پہچاننے، نکھارنے اور اس پر یقین رکھنے کی ہے۔"

30/05/2026

آج پہلی مرتبہ مجھے تیر اندازی کے مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملا، جس کا اہتمام محترم احمد زمان صاحب سپورٹس ڈی جی ایبٹ اباد نے خصوصی بچوں کی کھیلوں اور انکی حوصلہ افزائی کے لیے کیا تھا۔ میں ایک پروفیشنل آرچر نہیں تھا، لیکن برسوں سے خصوصی بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں نے فوکس، توجہ، مثبت سوچ اور ذہنی یکسوئی کی طاقت کو سمجھا ہے۔
جب میں نے کمان ہاتھ میں لی تو میرے ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ میرے بچے مجھے دیکھ رہے ہیں۔ اگر میں گھبرا گیا تو شاید ان کا حوصلہ بھی متاثر ہو۔ میں نے اپنی تمام تر توجہ نشانے پر مرکوز کی، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا اور پہلا ہی تیر ہدف پر جا لگا۔اس لمحے نے مجھے ایک بار پھر یہ سکھایا کہ کامیابی صرف مہارت سے نہیں بلکہ اعتماد، فوکس اور نیت کی طاقت سے حاصل ہوتی ہے۔ میرے تمام خصوصی بچوں کے لیے میرا پیغام ہے،اگر آپ اپنی توجہ اپنے مقصد پر مرکوز رکھیں تو کوئی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔
ڈاکٹر محمد عرفان اسپیشل ایجوکیشنسٹ، گولڈ میڈلسٹ

29/05/2026

نتائج کے دن والدین و اساتذہ ملاقات۔
ہر بچہ ایک منفرد کہانی ہے، اور ہر کہانی کو ایک خاص راہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
کنگسٹن سکول کی ٹیم ہر بچے کے لیے ایک انفرادی آئی پی پلان بناتی ہے، جو ہر بچے کی ضرورت، صلاحیت اور چیلنجز پر مبنی ہوتا ہے۔ اس ویڈیو میں، ہم نے والدین کو ان کے بچوں کے آئی پی پلانز دیے اور ہر بچے کے لیے مخصوص حکمتِ عملی پر بات چیت کی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ پلان آپ کے بچوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار کریں گے اور آپ کی مدد سے ہم ہر بچے کی ترقی کو بہتر سے بہتر بنائیں گے۔
ڈاکٹر محمد عرفان
ماہر تعلیم و نفسیات، اسپیشل ایجوکیشنسٹ، گولڈ میڈلسٹ

27/05/2026

اسلام علیکم
عید الاضحیٰ کی خوشیاں مبارک!!

26/05/2026

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
ترجمہ:
حاضر ہوں اے اﷲ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ بے شک حمد تیرے ہی لائق ہے ساری نعمتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں.

آیئے ہم بھی آج تکبیرات حج با اواز بلند پڑھتے ہیں!
♥ الســـلام عــليــكــم و رحــمــة الله و بـــركـــاتـــه.. ♥

23/05/2026

ورلڈ آٹزم ڈے کے موقع پر، لاہور چیمبر آف کامرس نے پاکستان کا پہلا ایسا پلیٹ فارم بنایا جہاں ملک کے تمام آٹزم پروفیشنلز اکٹھے ہوئے۔ میں نے بھی اپنی 27 سالہ سفر کی کہانی سنائی، جس میں کنگسٹن اسکول کے ذریعے میں نے آٹزم کے بچوں کی زندگی بدلنے کی جدوجہد کی۔ اپنی ریسرچ میں، میں نے آٹزم کو ڈی کوڈ کرنے، دماغی فریکوئنسی، vibrations اور روحانی جہت سے جوڑ کر اپنی فلسفی پیش کی:
"Teaching is the process of repairing DNA."
میں نے پاکستان میں اساتذہ کے مقابلے میں 2015 میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور 2020 میں گلوبل ٹیچر ایوارڈ میں حصہ لیا، آٹزم میری محبت ہے، اور میں نے اپنی ہر تحقیق میں آٹزم کو نئی روشنی دی۔ آج ہم سب مل کر آٹزم کی دنیا میں ایک نیا رجحان بنا رہے ہیں، ایک ایسا سفر جہاں علم، محبت اور روحانی شعور سب ساتھ چلتے ہیں۔

اٹسٹک بچوں کے والدین، تھراپیسٹ ، اساتذہ لازمی سنیں ۔
ڈاکٹر محمد عرفان محمدی سیفی

23/05/2026

As someone who has dealt with institutions across Pakistan, I say without hesitation:
Muhammad Irfan is not only a teacher — he is a phenomenon.
He does not just train children; he transforms them. His love for special children is parent-like, and his connection with them is so profound that it appears divinely gifted. He is the only professional I know who enters the inner world of children with autism, understanding their emotions, fears, and needs, and gently guides them toward functional independence.
He has developed unique approaches that blend psychology, behavior science, sensory regulation, emotional intelligence, and — most importantly — unconditional love. These are not yet written in books, but they must be.
One day, academic history will recognize and document the “Irfan Approach” as a beacon of autism rehabilitation in South Asia.
It would not be an exaggeration to say:
We parents pray more for Muhammad Irfan than his own family could ever imagine.
In a world full of clinics and centers, Muhammad Irfan remains Pakistan’s crown jewel in autism recovery — an institution unto himself, and an inspiration to generations to come.

With deep respect and heartfelt gratitude,
Judge Abdul Baseer
Father of Shama Baseer

پاکستان کے مختلف اداروں سے واسطہ رکھنے کے بعد، میں بلا تردد یہ کہتا ہوں کہ محمد عرفان صرف ایک استاد نہیں وہ ایک عہد، ایک کرشمہ ہیں۔ وہ صرف بچوں کو پڑھاتے نہیں، انہیں بدل دیتے ہیں۔ ان کی محبت ان خاص بچوں کے لیے والدین جیسی ہے، اور ان کا رشتہ اتنا گہرا اور روحانی ہے کہ خدائی عطا معلوم ہوتا ہے۔ میں نے آج تک کوئی ایسا ماہر نہیں دیکھا جو آٹزم کے بچوں کی اندرونی دنیا میں اتر کر ان کے جذبات، خوف، اور ضروریات کو اس گہرائی سے سمجھے اور پھر نرمی سے انہیں خود مختاری کی راہ پر لے جائے۔ انہوں نے نفسیات، رویہ جاتی سائنس، حسی نظم، جذباتی ذہانت، اور سب سے بڑھ کر بے شرط محبت کو یکجا کر کے ایسے طریقے وضع کیے ہیں جو ابھی تک کسی کتاب میں درج نہیں، لیکن ہونے چاہئیں۔ ایک دن تعلیمی تاریخ ضرور “عرفان اپروچ” کو جنوبی ایشیا میں آٹزم ری ہیبیلیٹیشن کی روشنی کے مینار کے طور پر تسلیم کرے گی۔
یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ ہم والدین محمد عرفان کے لیے ان کے اپنے گھر والوں سے بھی زیادہ دعائیں کرتے ہیں۔ کلینکس اور مراکز سے بھرے اس دور میں، محمد عرفان پاکستان کے آٹزم ریکوری کے تاج کا سب سے قیمتی نگینہ ہیں — ایک ادارہ اپنی ذات میں، اور آنے والی نسلوں کے لیے تحریک و رہنمائی کا سرچشمہ۔

خلوصِ دل اور گہرے احترام کے ساتھ،
جج عبدالبصیر
(والدِ شما)
یہ ایک اٹسٹک بچی کے والد جو جج ہیں ان کی بیٹی شمع بصیر کیساتھ کام کیا جس پر انھوں نے اٹھ سالہ کام پر انھوں نے میرے بارے میں کچھ لکھا

Want your business to be the top-listed Government Service in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Kingston School For Inclusive Education
Abbottabad