26/09/2025
ڈسکہ کے ساہی خاندان کے فرزند، بریگیڈیر غلام رسول ساہی کے بیٹے
لائل پور کے پہلے مُسلمان ڈاکٹر غلا رسول چیمہ کے نواسے
ڈاکٹر بلال احمد ساہی اب آپ کے شُکریہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس تو الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے
دعائیں ہیں جو ہر دم آپ کے لئے او آپ کے اہلِ خانہ کے لئے جاری ہیں یہ دعائیں میری طرف سے بھی ہیں اور اُن تمام لوگوں کی طرف سے بھی ہیں جِن کی آپ میرے ذریعہ مدد کرتے رہتے ہیں
نابینا شہزاد کو کرایہ پر گھر لے کر اور آپ کی جانب سے ایک سال کا کرایہ ایڈوانس دے کر آیا ہوں تو یہ چند سطور لِکھ ہرا ہے
ہم گلی محلہ کے ڈاکٹر ہیں-ہم غریبوں کے گھروں ، گلیوں محلوں میں جا کر گلی میں بیٹھ کر آنکھوں کے مریض چیک کرکے سفید موتیا کے مریض منتخب کرکے اپنے گھر لا کرمفت اپریشن کرتے ہیں-- غریبوں کے گھروں کے سامنے بیٹھ کر ہم آنکھیں ہی چیک نہیں کرتے اُن کی زندگی کے دوسرے مسائل بھی ہمارے سامنے آتے ہیں
یہ نابینا شخص بھی ل اپنی بیوی کے ساتھ آنکھوں کے مفت اپریشن کیلئے آیا آیا
لیکن بد قِسمتی سے اُس کے موتیا نہیں آنکھوں کے پردوں کی بیماری تھی جو نظر ختم ہونے کے بعد لاعلاج ہوجاتی ہے
تب سے چند ہفتے قبل
یکا یک دونوں آنکھوں کی نظر چلی گئی تھی
سلائی کڑھائی کا کام کرتا تھا
روزگار ختم اور
رہنے کو گھر نہیں اور کرایہ دینا تو دُور کھانے پینے کے بھی لالے پڑ گئے
ایک سال سے دس سال عمر کے پانچ بچے ہیں
کام کرتا تھا تو خاندان کے ساتھ منصور آباد میں کرایہ کے مکان میں رہتا تھا کرایہ نہ دینے سے وہاں سے نِکلنا پڑا تو کسی خدا ترس نے دو ماہ کا کرایہ دے کر ایک دوسرے محلہ میں یہ مکان لے دیا- بے چارہ پُرامید ہے کہ دو ماہ بعد شاید نظر ٹھیک ہو جائے تو وُہ کام کرکے کرایہ دینے کے قابل ہو جائے گا
جو کہ ناممکن ہے- اور میرا دِل یہ سوچ سوچ کر ہی رو رہا ہے کہ تب کیا ہوگا؟ بے چارہ معصوم بچوں کے ساتھ کہاں جائے گا؟ کہاں سے کھائے گا
تب ڈاکٹر بلا ساہی سے بات ہوئی تو اُنہوں نے فوراِِ سال بھر کا کرایہ بھیج دیا-
فیصل آباد کے ہی آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر سہیل رشید اور اُن کی اہلیہ ڈاکٹر نے اُس غریب گھر کی کُچھ ذمہ داریاں اپنے ذمہ لے لیں
ڈاکٹر بلا ساہی اِس خاندان کے گھر کا کرایہ مسلسل ادا کر رہے ہیں
----------------------
خوش قسمت ہیں خاندان اور وہ معاشرہ جس میں ڈاکٹر بلال احمد جیسے انسان پائے جاتے ہیں
امریکہ میں مقیم ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بلال احمد کا میرے ساتھ پہلا تعارف تو ان کی ممانی جان اور میری استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر تسنیم چیمہ کے حوالہ سے ہی ہوا
میڈم تسنیم چیمہ کی حثییت بطور ایک انتہائی شفیق اور محترم استاد کی تو ہے ہی لیکن ہم لائلپوریوں کے لئے ان کے خاندان کا تعارف ان کے سسر ڈاکٹر غلام رسول چیمہ [ڈاکٹر بلال احمد کے نانا جان] کے حوالہ سے ہی ہوتا ہے جو متحدہ ہندستان کے لائل پور کے پہلے مسلمان ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے
انہوں نے زندگی بھر لائلپوریوں کو بیماری کی حالت میں شفاء دینے کی کوشش جاری رکھی تو ان کے بعد ان کے بیٹے فاروق چیمہ اور اب تیسری نسل نے بھی اس کام کو جاری رکھا ہوا ہے ہے
چند سال قبل ہم نے تین دِن کیلئے ڈسکہ میں ان کے آبائی گھر میں قیام کیا تو ان کی خدمت خلق کیلئے کاوشیں سامنے آئیں
ہم گئے تو ڈاکٹر صاحب کے والدِ محترم بریگیڈیر غلام رسول چیمہ کے نام پر بنانے والی فری ڈسپنسری میں تین روزہ فری آئی کیمپ لگا کر اس کا افتتاح کیا
وہیں ان کے خاندان کی طرف سے بنا کر عطیہ کیا جانے والا حمنہ پرائمری سکول دیکھا
جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ کئی ایکڑ پر محیط سپورٹس سٹیڈیم تھا جو انہوں نے اپنی آبائی زمین پر بنا کر ڈسکہ کے عام لوگوں کیلئے کھولا ہوا ہے
اور اب ڈاکٹر بلال کا ایک نیا روپ اس وقت سامنے آیا جب کرونا وبا کے دوران راشن تقسیم کے سروے کے دوران کچھ ایسے خاندان سامنے جو بے بسی کی انتہا پر تھے تو ڈاکٹر بلال فوراُ اُان کی مدد کو آئے اور اب یہ مدد لاکھوں روپے تک پہنچ چکی ہے
اللہ ہی ان کو اس نیکی کا صلہ دے سکتا ہے اور وہ غریب لوگ جن کو ڈاکٹر بے بسی سے باہر لائے ڈاکٹر بلال کو دعا ہی دے سکتے ہیں اور وہ ہم دے رہے ہیں
08/07/2025
حال میں ہی سوات میں ہونے والے اندوہناک واقع نے ہم سب کو رُلا کر رکھ دیا اِس میں ۱۸ قیمتی جانیں گئیں
ریڈرز ڈائجسٹ کے جولائی انیس چورانوے کے شمارہ میں دریائے نیلم میں ہیلمت کے مقام پر ڈوبنے والے ۳۲ افراد کی کہانی
Terorr in Hamalayas
کے نام سے چھپی ہے
سوات میں ۱۸ قیمتی جانیں ہمارے دیکھتے دیکھتے اور کیمروں کے سامنے ہم سب کی دعائوں باوجود آخرت کو سدھار گئیں
لیکن دریائے نیلم میں ڈوبنے والے ۳۲ افراد جِن میں ۳۱ فوجی اور ایک سولین تھا، رات کے اندھیرے میں درختوں لپٹ کے جان بچانے کی کوشش کرتے کرتے اللہ کے پاس چلے گئے
سوات میں ہمیں کوئی بھی بے بس لوگوں کی مدد کرتا نظر نہیں آیا
لیکن ہیلمت میں شیخوپورہ کے گائوں ہیڈ روشن دین سے تعلق رکھنے والے سرپھرے جاٹ بریگیڈیر ذکاء اللہ بھنگو نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دریائے نیلم کی تند تیز موجوں کے درمیان پھنسے بہت سے لوگوں کو بچا لیا
ذکاء اللہ کا تعلق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یونٹ ۲۳ ایف ایف سے تھا اور وُہ پنجاب میڈیکل کالج میں ہمارے فرسٹ بیچ کے ڈاکٹر ذولفقار بھنگو کے قریبی عزیز تھے
بریگیڈیر بھنگو کا یہ ایک ایسا خود کشی والا ایکشن تھا کہ ریڈر ڈائجسٹ جیسا رسالہ بھی اِسر نظر انداز نہ کر سکا
میرا اُس کہانی سے ذاتی تعلق بننے میں پنجاب میڈیکل کالج فارغ لتحصیل ہونے اور کُچھ عرصہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یونٹ کے ساتھ ۱۹۸۲ میں مالاکنڈ قلعہ میں سروس کرنے کی وجہ سے بنا
ہم ایک دہائی سے وادی نیلم میں کیل اور تائوبٹ کے درمیان دریائے نیلم کنارے مختلف دیہات میں فری آئی کیمپنگ کر رہے ہیں
ہیلمت سے نِکل کر دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ تائو بٹ کی جانب جائیں تو ہمارے بائیں ہاتھ خچروں کے لئے بنائی گئی بیرکیں نظر آتی ہیں اور دائیں جانب دریائے نیلم کی جانب ایک شیڈ کے نیچے ایک دیوار نما تختی پر کُچھ نام لِکھے نظر آتے ہیں- ہم سالہا سال سے اِس تختی کو پڑھے بغیر آگے کریم آباد، نیکرون اور تائوبٹ کے دیہات کی طرف جاتے رہے
یہ اگست ۲۰۲۱ کی بات ہے کہ ہم نے پہلی مرتبہاپریشن تھیتڑ ہیلمت کے سکول میں بنایا اور تین دِن کیلئے یہاں اپریشن کئے تو فارغ وقت میں علاقہ کے تفصیل سے دیکھنے کا موقع بھی مِلا تو تختی پر ۳۲ شہداء کے نام پڑھے جو ۱۰ ستمبر ۱۹۹۲ کی رات دریائے نیلم کی موجوں میں بہہ گئے- ءاد رکھیں ستمبر میں ہی یہ علاقہ بہت زیادہ سرد ہوجاتا ہے
شہید ہونے والے تمام فوجیوں کا تعلق اے ٹی رجمنٹ یعنی خچروں والی یونٹ سے تھا- اِن لوگوں کو عام فوجی بہت کم جانتے ہیں کیونکہ اِن بے چاروں کا کام ہی بلندوبالہ پہاڑوں پر ہوتا ہے
میں نے ہیلمت کے مقامی لوگوں سے اِن ۳۲ بندوں کے دریائے نیلم میں بہہ جانے کے متعلق پُوچھا لیکن کوئی مُجھے کُچھ نہ بتا سکا کیونکہ ۱۰ ستمبر ۱۹۹۲ کی وُہ رات بہت سرد تھی اور دریائے نیلم میں یکدم آ جانے والی شدید طغیانی نے لوگوں کو پریشان کردیا تھا کہ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے- مقامی لوگوں کے خیال میں شاید فوجیوں کو وُہ جگہ کسی بھی صورت نہ چھوڑنے کا حُکم تھا جِس کی تعمیل میں اُنہوں نے اپنی جگہ نہ چھوڑی اور جانین قربان کردیں
یہ کہانی میرے دِل کو نہ لگی- میں خود فوجی ہوں اور ایسے حُکم صِرف جنگ کی صورت میں دیئے جاتے ہیں دیگر حالات میں فوجی خود فیصلہ کر سکتا ہے اور شہید ہونے والوں میں تو ایک سینیئر آفیشیل نائب رسالدار بھی شامل تھا
میں تین سال تک اصل کہانی تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن مُجھے کُچھ پتہ نہ چلا
فری آئی کیمپنگ میں دُنیا بھر میں پھیلے ہوئے پنجاب میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز میرے دست و بازو ہیں- اِن میں سے اکثر سے میری مُلاقات نہیں ہوئی لیکن وُہ سب میرے دِل میں بستی ہیں
انہیں ڈاکٹرز میں انگلینڈ میں مقیم ڈاکٹر آمنہ بلال بھی ہیں جو فری آئی کیمپنگ میں میری مدد کرتی رہتی ہیں- میری سب سے چھوٹی بیٹی کا نام بھی آمنہ ہے اور ڈاکٹر آمنہ بلال کو بھی میں آمنہ بیٹی ہی کہتا ہوں
کُچھ عرصہ قبل ڈاکٹر آمنہ بلال نے کہا کہ اُن کی امی کو آنکھوں کا پرابلم ہےاور وُہ میرے ساتھ ڈسکس کرنا چاہتی ہیں
ڈاکٹر آمنہ بلال نے اپنی امی کا میڈیکل ریکارڈ بھیجا تو زیادہ تر پاک آرمی کے ڈاکٹرز کا تھا
میرے استفسار آمنہ بلال نے بتایا کہ اُن کے ابو فوج میں ۲۳ ایف ایف یونٹ میں رہے ہیں- چونکہ میں خود اِس یونٹ میں رہ چُکا ہوں میں نے آمنہ کو بتایا کہ ہم ۱۹۸۲ میں مالاکنڈ میں اکٹھے تھے تو میرے ساتھ یونٹ کمانڈر منصور راجہ، اُن کی بیگم ڈاکٹر انور، میجر پرویز پریتو، میجر چیمہ، ہاکی اولپیئن کیپٹن سعید خان اور لیفٹننٹ نقوی ہوتے تھے
آمنہ کو یہ پتہ چلا تو کہنے لگیں سر آپ وُہ ڈوگر صاحب ہیں، میں بھی اُس وقت وہیں تھی اور تین سال کی تھی میجر چیمہ کی بیٹی ہوں
اور ڈاکٹر آمنہ بلال سے پنجاب میڈیکل کالج کے علاوہ ایک مزید قریبی تعلق نِکل آیا
میں نے آمنہ کو بتایا کہ ہم دو ہزار سولہ میں سوات کے علاقہ میں فری آئی کیمپ کیلئے جا رہے تھے تو رات کے وقت ہمیں تخت بھائی اور سخا کوٹ کے درمیان ایک چیک پوسٹ پر روکا گیا- روکنے والے فوجیوں کا تعلق ۲۳ ایف ایف یونٹ سے تھا- میرے استفسار پر فوجیوں نے بتایا کہ ایک دفعہ پھر چونیتیس سال بعد یونٹ مالکنڈ قلعہ میں آ گئی ہے- آمنہ پوچھا کہ یہ کب کی بات ہے میں بتایا کہ ستمبر سولہ کی بات ہے- آمنہ کہنے لگیں کہ وُہ اُس دِن وہیں قلعہ میں تھیں- اُس کی بہن کے میاں لیفٹننٹ کرنل یاسر ذکا بھنگو یونٹ کمانڈ کر رہے ہیں اور ڈاکٹر انگلینڈ سے آئیں تو بہن کو مِلنے مالاکنڈ قلعہ پہنچ گئیں
ڈاکٹر آمنہ کہنے لگیں کہ آپ بریگیڈیر ذکا ء اللہ بھنگو کو جانتے ہوں گے وُہ بھی ۲۳ ایف ایف کے تھے اور وُہ اُن کی بہن کے سسر تھے
میری بریگیڈیر ذکا کے ساتھ مُلاقات نہیں رہی تھی- ڈاکٹر آمنہ بلال نے بریگیڈیر ذکا بھنگو کا تعارف کروانے کے لئے مُجھے مختلف مِتریل بھیجا تو اُس میں ریڈرز ڈائجسٹ کا ہیلمت نیلم والے حادثہ متعلقہ مضموں
Terorr in Hamalayas
بھی تھا- جِس کی وجہ سے بریگیڈیر بھنگو کا تعارف بھی ہو گیا
اور ہیلمت کے شہیدوں کے متعلقہ میری تین سال سے نامکمل رہ جانے والی کہانی بھی مکمل ہو گئی
اگر آپ ریڈرز ڈائجسٹ کا آرٹیکل پڑھنا چاہتے ہیں تو وٹس اپ نمبر بھیج دیں میں آپ کو آرٹیکل بھیج دُون گا