مؤمن کی فکرمندی
```الحدیث النبوی:```
مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مومن کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ، نہ تھکاوٹ ، نہ بیماری ، نہ غم حتی کہ کوئی فکر بھی جو اسے فکرمند کر دے مگراس کے بدلے اس کے گناہوں کومٹا دیاجاتا ہے ۔
```صحیح مسلم:6568```
DAWAT E HAQ
Spreading the Light of Quran o Sunnah
شہید۔۔۔۔۔اوردنیا میں واپسی کی تمنا
```الحدیث النبوی:```
(عَنْ)أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ:مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، فَيُقْتَلَ : عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے ‘ خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو( اللہ کے راستے میں ) کیونکہ وہ شہادت(اور شہید) کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔
```صحیح البخاری:2817```
اللہ تعالی بے نیاز ہے
```الحدیث النبوی:```
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، قَالَ : مَا بَالُ هَذَا ؟ قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کا سہارا لیے چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کعبہ کو پیدل چلنے کی منت مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کہ یہ اپنے کو تکلیف میں ڈالیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سوار ہونے کا حکم دیا۔
```صحیح البخاری:1865```
عاجزی احترام انسان
```الحدیث النبوی```:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا أَحَدُكُمْ قَرَّبَ إِلَيْهِ مَمْلُوكُهُ طَعَامًا ، قَدْ كَفَاهُ عَنَاءَهُ وَحَرَّهُ ، فَلْيَدْعُهُ ، فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً ، فَلْيَجْعَلْهَا فِي يَدِهِ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کسی کا غلام اسے کھانا پیش کرے جس کی ( تیاری کی ) مشقت اور ( اس کے لیے آگ کی ) حرارت اس نے برداشت کی ہے تو اسے بلا کر اپنے ساتھ ( کھانا ) کھلائے ۔ اگر یہ نہ کر سکے تو ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ میں رکھ دے ۔‘‘
```سنن ابن ماجہ :3290```
نیک اعمال اور نیت
```الحدیث النبوی:```
سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيٍَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابٍِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ""إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تمام (نیک)اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔
```صحیح البخاری:01```
نیت اور قرض
```الحدیث النبوی```: اردو ترجمہ
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور زیادہ لیا کرتی تھیں ۔ ان کے رشتہ داروں نے اس بارے میں ان پر اعتراض کیا ، سختی کی اور ناراض ہوئے ۔ وہ فرمانے لگیں : میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی کیونکہ میں نے اپنے پیارے محبوب خاوند صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے :’’ جو شخص بھی قرض لیتا ہے ، جس کے بارے اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ ادائیگی کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس کا قرض اس کی طرف سے ادا کرا دے گا ۔‘‘
```سنن نسائی :4690```
آسانی اور اطمینان
```الحدیث النبوی:```
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
(انسانیت کے لیے) آسانی پیدا کرو ، دشواری پیدا نہ کرو ،اطمینان دلاؤ اور نفرت نہ پھیلاؤ۔
```صحیح مسلم:4528```
سفر کے لیے پسندیدہ دن
```الحدیث النبوی:```
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔۔وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ"".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعرات کے دن (سفر کے لیے ) نکلنا پسند فرماتے تھے۔
```صحیح البخاری:2950```
30/12/2024
اے اللہ تیری پناہ چاہتا ہوں
```الحدیث النبوی:```
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں میں سے ایک یہ تھی : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ۔
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے ، تیری عافیت کے ہٹ جانے سے ، تیری ناگہانی سزا سے اور تیری ہر طرح کی ناراضی سے ۔
```صحیح مسلم:2739```
جنت کی رہ
```الحدیث النبوی:```
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ قَالَ التَّقْوَى وَحُسْنُ الْخُلُقِ۔۔۔۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کون سا عمل سب سے زیادہ ( لوگوں کو ) جنت میں داخل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا :’’ تقوی اور خوش اخلاقی ( حسن اخلاق )۔
```سنن ابن ماجہ :4246```
عدل و انصاف کرنے والے
```الحدیث النبوی:```
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’ انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے ۔ جو عدل کرتے ہیں اپنے فیصلوں میں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اور اپنی رعایا(عوام الناس) کے ساتھ ۔‘‘
```سنن نسائی :5381```
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
PRINCE CHOWK
Gujrat
50700
Opening Hours
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
