31/05/2026
د امن ناوي له سينګار دي په شريکه اوشي
ما دنداسه راوړي ته ورله رانجه اومنه
موسی جان شهېد دوئیم تلېن
موسی جان د پښتون سټوډنټ فېډرېشن ملاکنډ پوهنتون یو فعاله او زمه وار ملګري ؤ
پښتون سټوډنټ فیډرېشن د موسی خان شهېد په دوئیم تلېن هغه ته د عقیدت ګولونه وړاندي کوي - او د هغه فکر لا په مخه بیائي
28/05/2026
مئی28/ 1930 – سانحہ ٹکر
یہ وہ سیاہ دن تھا جب مردان کے پرامن گاؤں ٹکر پر ظلم ٹوٹا۔
نہتے خدائی خدمتگار، جنہوں نے صرف عدم تشدد اور آزادی کا راستہ چنا تھا، انگریز سامراج کی گولیوں کا نشانہ بنے۔
70 سے زائد معصوم جانیں اس لیے لی گئیں کہ وہ باچا خان بابا کے قافلۂ حق کا حصہ تھے۔
گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا، خاندان اجاڑے گئے، لیکن اس کے باوجود ان بے مثال فرزندوں نے عدم تشدد کا دامن نہ چھوڑا۔
یہ ہماری تاریخ کا وہ لہو رنگ باب ہے جسے کتابوں سے مٹا دیا گیا،لیکن زمین کی مٹی، درختوں کی چھاؤں، اور ہوا کی سرگوشیاں آج بھی ان شہداء کی قربانیوں کی گواہی دیتی ہیں۔ہم ان عظیم شہداء کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔
22/05/2026
ریاست آخر اتنی کمزور کیسے ہو سکتی ہے کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں ایک معصوم بچی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہو، اور حکومت و ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوں؟
سوال یہ ہے کہ گزشتہ 45 سالوں سے جن آپریشنز کے نام پر پختونخوا میں کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، وہی طاقت، وہی ریاستی رِٹ، سندھ کے کچے میں موجود ڈاکوؤں کے خلاف کیوں نظر نہیں آتی؟
کیا ریاست صرف کمزور عوام پر اپنی طاقت دکھانے کے لیے رہ گئی ہے؟
اگر ریاست واقعی طاقتور ہے تو پھر معصوم بچوں، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟
یہ واقعہ صرف ایک بچی کا نہیں، بلکہ پوری ریاستی ناکامی کا سوال ہے۔
جب عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کریں اور مجرم آزاد گھومتے رہیں، تو یہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ہم سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معصوم بچی کو فوری اور محفوظ بازیاب کروایا جائے، اور کچے کے علاقوں میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
ریاست کو اپنی رِٹ صرف نعروں میں نہیں، عملی طور پر ثابت کرنا ہوگی۔
16/05/2026
پشتون اسٹوڈنٹ فیڈریشن ہوسٹل سٹی انتہائی مسرت اور فخر کے ساتھ یہ مطلع کرتے ہے کہ پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن ہوسٹل کے ہردلعزیز، مخلص، محنتی، باچا خان کے نظریے عدمِ تشدد کے پیروکار سابقہ صدر عباس خان نے 'بی ایس انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر' (BS English Language & Literature) کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔
صدر عباس خان صرف ایک عہدے دار نہیں تھے بلکہ PSF کے ایک مضبوط ستون تھے۔ انہوں نے تنظیم اور اپنے ساتھیوں کے لیے دن رات ایک کر کے PSF کی بقا اور ترقی کے لیے بے پناہ محنت کی تھی، تکالیف اٹھائیں اور ہر مشکل موڑ پر ثابت قدم رہ کر قیادت کا حق ادا کیا۔ آج ان کی یہ تعلیمی کامیابی ہم سب کے لیے سر اٹھا کر جینے کا مقام ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارے محترم صدر عباس خان کو زندگی کے ہر اگلے مرحلے میں کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور ان کا مستقبل درخشاں کرے۔
*پشتون اسٹوڈنٹ فیڈریشن ہوسٹل سٹی اسلام آباد*
10/05/2026
کوفه ده يزيديت دى کربلا ده پښتونخوا ده
په خپله خاوره خپل اختيار ګناء ده پښتونخوا ده
لا هغسې د سپين ملنګ د لاس نه بېرغ لويږي
تر وسه په بابړه خونبها ده پښتونخوا ده
لا هغسې ازغن تارونه اوړي په سينه يې
لا هغسې محکومه پښتنونخوا ده پښتنونخوا ده
د دې سړي د سرې ټوپۍ ارمان به ګورى وکړٸ
د دې سړي په فکر کې بقا ده پښتنونخوا ده
د جبر خلاف لوې مزاحمت د پښتون څه دى
هغه د ګيله من د مور خندا ده پښتونخوا ده
ايمان په کې تازه وي د انسان دروېش روښانه
وطن د سترګو نور د مخ رڼا ده پښتونخوا ده
دروېش روښان