Urdu Novel Nagri

Urdu Novel Nagri

Share

Promote All Writers and Novels

26/05/2026

ناول: دھوپ،عید اور تم
رائٹر: مومنہ الیاس
آخری قسط نمبر 04

گرمی اپنے عروج پر تھی۔
لاہور کی دوپہریں ویسے بھی جان لیوا ہوتی ہیں، مگر اس سال کی گرمی جیسے الگ ہی ضد پر اڑی ہوئی تھی۔ ہوا تک گرم سانسوں جیسی لگتی تھی۔ سڑکیں تپتی تھیں، دیواریں گرم رہتی تھیں اور راتوں کو بھی پنکھے صرف آواز دیتے تھے، سکون نہیں۔

ان دنوں اشمل کی ہاؤس جاب چل رہی تھی۔
صبح سے شام تک اسپتال کی بھاگ دوڑ، ایمرجنسی کی کالز، مریضوں کے لواحقین کے سوال، سینئرز کی سختی… سب کچھ اسے اندر سے تھکا دیتا تھا۔ مگر پھر بھی اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک عجیب سا سکون رہتا۔
وہ پہلے والی اشمل نہیں رہی تھی۔

وہ اب خاموش زیادہ رہتی تھی۔
کم بولتی تھی۔
اور دل میں چیزیں دفن کرنا سیکھ چکی تھی۔

اس دن بھی جب وہ اسپتال سے واپس آئی تو عصر کا وقت ہو رہا تھا۔
سفید کوٹ اس کے ہاتھ پر پڑا تھا، بال ڈھیلے سے بندھے ہوئے تھے اور چہرے پر تھکن واضح تھی۔

جیسے ہی وہ گیٹ کے اندر داخل ہوئی، اچانک اس کے قدم سست پڑ گئے۔

سامنے باغ میں زرار کھڑا تھا۔

دو سال بعد۔

اشمل کا دل ایک لمحے کو جیسے دھڑکنا بھول گیا۔

زرار پہلے سے کہیں زیادہ بدل چکا تھا۔
اس کی شخصیت میں اب عجیب سا رعب تھا۔
کھڑی وردی، مضبوط انداز، سنجیدہ چہرہ… اب وہ صرف زرار نہیں تھا۔
وہ لیفٹیننٹ کرنل زرار تھا۔

وہ بھی اشمل کو دیکھ کر ساکت رہ گیا۔

اشمل نے صرف ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا… پھر ایسے نظریں ہٹا لیں جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔

نہ سلام۔
نہ حیرت۔
نہ شکوہ۔

بس خاموشی۔

وہ پرسکون قدموں سے اندر چلی گئی۔

زرار دیر تک اسے جاتا دیکھتا رہا۔
اس کے چہرے کی تھکن… اس کی واک کا اعتماد… اور وہ بےنیازی… سب کچھ زرار کے دل پر عجیب اثر ڈال گیا تھا۔
---

آئرہ کی منگنی کو تین سال ہو چکے تھے۔
مگر اب بھی وہ شادی کے لیے تیار نہیں تھی۔

شروع میں سب نے سوچا وقت چاہیے ہوگا، پھر پڑھائی، پھر حالات… مگر اب دونوں خاندانوں کو شک ہونے لگا تھا کہ بات کچھ اور ہے۔

اور جس بات کا ڈر تھا… آخر وہی ہو گیا۔

آئرہ نے ایک دن سب کے سامنے اریب کے بارے میں بتا دیا۔

گھر میں قیامت آ گئی تھی۔

چیخیں، سوال، غصہ، آنسو…

اشمل خاموش کھڑی سب دیکھتی رہی۔

زرار کو جب آئرہ نے سب کچھ بتایا تو وہ کافی دیر خاموش رہا تھا۔
اسے دکھ ہوا تھا۔ بہت زیادہ۔

مگر اس نے صرف ایک بات کہی تھی۔

"اگر وہ اریب کے ساتھ خوش ہے… تو شادی وہیں ہوگی۔"

سب جانتے تھے کہ آئرہ ضد میں کسی بھی حد تک جا سکتی تھی۔
وہ نکاح بھی کر چکی تھی۔
اسی لیے آخرکار سب نے مان لیا۔

چند ہفتوں بعد آئرہ اور اریب کی شادی ہو گئی۔
اور پھر دونوں بیرونِ ملک چلے گئے۔

ان سب حالات کے باوجود زرار کے گھر والوں کے اشمل کے خاندان سے تعلقات خراب نہیں ہوئے۔
بلکہ پہلے سے بہتر ہو گئے تھے۔

جب وہ لاہور منتقل ہوئے تھے تو آئرہ اور اشمل کے گھر والوں نے ان کی بہت مدد کی تھی۔
وہ لوگ اس احسان کو کبھی نہیں بھولے تھے۔
---

ایک شام زرار نے اشمل کو روک لیا۔

"اشمل…"

وہ رکی نہیں۔

"مجھے تم سے معافی مانگنی ہے۔"

اشمل نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔

صرف ایک منٹ۔

ایسی نظر… جس میں خاموش شکوے تھے۔

پھر بغیر کچھ کہے وہ چلی گئی۔

زرار وہیں کھڑا رہ گیا۔

---

گھر میں کافی عرصے سے اداسی تھی۔
خاص طور پر آئرہ کے جانے کے بعد۔

اسی لیے سب نے سوچا کہ حنان کی شادی کی تیاریاں شروع کی جائیں۔
بقر عید کے فوراً بعد تاریخ رکھی گئی۔

گھر پھر سے بھرنے لگا۔
بچے شور مچاتے، خواتین کپڑوں اور جیولری کی باتیں کرتیں، رات گئے تک قہقہے گونجتے۔

ملک کے حالات کی وجہ سے بچوں کی تین دن کی چھٹیاں ہو گئی تھیں اور پھر گرمیوں کی چھٹیاں بھی شروع ہو چکی تھیں۔
بچوں کی وجہ سے بکرے بھی جلدی آگئے تھے۔۔۔
پورا دن گھر میں شور ہی رہتا تھا۔

اس دن اشمل کے سر میں شدید درد تھا۔

وہ تاریخ… وہ دن… وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔

آج ہی کے دن اس کی اور زرار کی دوستی ہوئی تھی۔

وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی جب اچانک باہر سے بچوں کی آوازیں آئیں۔

وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس گئی۔

ساتھ والے باغیچے میں بچے اچھل کود کر رہے تھے۔
اور کار پورچ میں حنان کسی کو گاڑی سے باہر آنے میں مدد دے رہا تھا۔

اشمل نے غور سے دیکھا۔

زرار تھا۔

اس کی ٹانگ پر چوٹ لگی ہوئی تھی اور وہ اسٹک کے سہارے کھڑا تھا۔

اشمل کے دل میں بےاختیار تشویش ابھری۔

اسی لمحے زرار کی نظر اوپر اٹھی۔

دونوں کی نظریں ملیں۔

اشمل گھبرا کر فوراً کھڑکی بند کرنے لگی۔
پردے درست کیے اور واپس بستر پر آ کر بیٹھ گئی۔

اس کا دل عجیب طرح دھڑک رہا تھا۔

---

پورا دن اور رات گھر میں بکرے کی بو پھیلی رہتی تھی۔

اشمل تو تنگ آ گئی تھی۔

کبھی روم اسپرے، کبھی پرفیوم، کبھی باڈی اسپرے…

وہ خود ہی اپنی حرکتوں پر پریشان ہو جاتی۔

اور جب زرار گھر پر ہوتا تو وہ وہاں جانے سے مکمل پرہیز کرتی۔

مگر اُس دن زرار کہیں گیا ہوا تھا، اس لیے وہ اپنی امی کے ساتھ ان کے گھر چلی گئی۔

اتوار کا دن تھا۔

چائے پینے کے بعد وہ برتن رکھ کر واپس آ رہی تھی کہ اچانک سامنے زرار آ گیا۔

اس نے راستہ روک لیا۔

"یہ کیا بدتمیزی ہے؟"

اشمل نے خفگی سے کہا۔

زرار نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

"ایک بات کرنی ہے۔"

"کس سے؟"

اشمل جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بنی۔

زرار ہلکا سا جھنجھلایا۔

"تم سے۔ اور یہاں کون ہے؟"

اشمل کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آئی۔

"لیکن میں نے تو آپ کو دھوکہ دیا تھا۔ آپ تو میرا منہ بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔"

زرار خاموش رہ گیا۔

اور اشمل تیزی سے باہر نکل گئی۔

زرار نے گہری سانس لی اور سر جھکا لیا۔

---

عید میں صرف دس دن باقی تھے۔

ابھی تک زرار لوگوں نے قربانی کا جانور نہیں لیا تھا، اسی لیے آج حنان اور زرار کو بکرہ منڈی جانا تھا۔

ان دنوں زرار بہت عبادت کر رہا تھا۔

وہ دل سے چاہتا تھا کہ اشمل مان جائے۔

اس کی امی پہلے ہی اشمل کی امی سے بات کر چکی تھیں۔
دونوں کو یقین تھا کہ اشمل کبھی انکار نہیں کرے گی۔

اور پھر ایک دن اشمل کی امی نے اسے بتایا کہ فیصلہ اس پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

سب کو اشمل پر فخر ہوا تھا۔

اور جب زرار کو پتا چلا کہ اشمل نے انکار نہیں کیا…

وہ چند لمحے ساکت رہ گیا تھا۔

جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔

---

اس دن سب لوگ زرار کے گھر تھے۔

اشمل ان کے فریج سے برف لینے گئی۔

دوپہر کے دو بج رہے تھے۔
شدید گرمی تھی۔

زرار ابھی ابھی اٹھا تھا۔
رات والی شرٹ پہنے وہ باہر آیا۔

اور پھر اشمل کو دیکھ کر رک گیا۔

اشمل جلدی سے باہر نکلنے لگی مگر زرار نے اس کا راستہ روک لیا۔

"ہٹو۔"

"پہلے میری بات سنو۔"

اشمل نے دوسری طرف سے نکلنا چاہا مگر اچانک زرار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔

وہ سیدھی اس کے سینے سے آ لگی۔

اشمل کا دل زور سے دھڑکا۔

"کیا مسئلہ ہے آپ کا؟"

زرار نے جھک کر اسے دیکھا۔

"کبھی معاف نہیں کرو گی؟"

اشمل نے غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

زرار دھیرے سے بولا۔

"تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔"

اس کے لہجے میں عجیب سا اعتماد تھا۔

اشمل نے فوراً نظریں تنگ کیں۔

"اتنا بھی اوور کانفیڈنٹ نہیں ہونا چاہیے۔"

"ہاتھ چھوڑیں۔"

"نہیں۔ جب تک معاف نہیں کرو گی۔"

وہ جان بوجھ کر اس کے قریب کھڑا تھا۔

اشمل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"ہر بات میں زبردستی کیوں کرتے ہیں آپ؟"

زرار فوراً سنجیدہ ہو گیا۔

اس نے نرمی سے اس کی پشت پر ہاتھ رکھا۔

"میں واقعی بہت شرمندہ ہوں اشمل… میں پاگل ہو گیا تھا۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا رویہ رکھا۔"

اس کی آواز بھاری ہو گئی۔

"مجھے لگتا ہے میرے ساتھ جو ہوا… ٹھیک ہوا۔ میں نے تمہارا دل توڑا تھا۔ اللہ نے مجھ سے بدلہ لے لیا۔"

اشمل خاموشی سے روتی رہی۔

زرار نے آہستہ سے اس کا چہرہ اوپر کیا۔

"رو تو نہیں…"

اشمل فوراً پیچھے ہوئی۔

"کیسے نہ روؤں؟ بکرے کی اتنی بو آ رہی ہے!"

زرار ایک لمحے کے لیے خاموش رہا۔
تم اس شملہ کی وجہ سے روئی ہو۔۔۔ اس نے حیرت سے کہا ۔۔ تو اور کیا۔۔۔

اور اشمل جلدی سے برف اٹھا کر باہر بھاگ گئ

زرار حیران کھڑا رہ گیا۔

پھر اس نے اپنی شرٹ سونگھی۔

اور اگلے ہی لمحے عجیب سا منہ بنایا۔

"واقعی؟"

وہ فوراً واش روم کی طرف چلا گیا۔

-۔۔۔

آج چاند رات تھی۔

بچے بکرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔
بڑے کل کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

حنان کی شادی کے ساتھ اب اشمل اور زرار کی شادی کی بات بھی طے ہو چکی تھی۔

گھر میں مدتوں بعد خوشی لوٹی تھی۔

اشمل بار بار اپنی کھڑکی سے باہر دیکھتی۔

اور ہر بار زرار کی نظریں اسے پکڑ لیتیں۔

اب وہ پہلے کی طرح فوراً پیچھے نہیں ہٹتی تھی۔

دونوں عجیب سی خاموش خوشی میں تھے۔

اشمل نے ہاتھوں پر بہت پیاری مہندی لگائی تھی۔

گہری، خوبصورت مہندی۔

زرار نے جب اس کے ہاتھ دیکھے تھے تو دیر تک دیکھتا رہ گیا تھا۔

---

عید کی صبح۔

پورا گھر خوشبوؤں، آوازوں اور قہقہوں سے بھرا ہوا تھا۔

اشمل آج بےحد خوبصورت لگ رہی تھی۔

اس نے سفید رنگ کا سادہ مگر بہت نفیس شرارہ پہنا تھا۔
بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی بنائی ہوئی تھی۔
کانوں میں جھمکے اور ہاتھوں میں جیلی بینگلز۔۔

وہ بار بار لان کی طرف دیکھتی جہاں زرار سب کاموں میں مصروف تھا۔

شام کا ڈنر زرار کے گھر تھا کیونکہ ان کا لان بڑا تھا۔
اور آج وہاں بہت خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی۔

فیری لائٹس، پھول، ہلکی پیلی روشنیاں…

سب کچھ بہت حسین لگ رہا تھا۔
شام ہو چکی تھی۔۔۔۔۔

باربی کیو کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔

رات کو سب دوبارہ تیار ہوئے۔

بچے بھاگ رہے تھے۔
بڑے ہنس رہے تھے۔
اور کافی عرصے بعد دونوں گھروں میں حقیقی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔

اشمل ابھی فریش ہو کر اندر سے باہر آنے ہی والی تھی کہ اچانک سامنے زرار آ گیا۔

وہ وہیں رک گئی۔

زرار ہلکا سا مسکرایا۔

"مجھے پتا ہے… تم آ رہی تھیں۔"

اشمل کا دل زور سے دھڑکا۔

زرار نے آہستہ سے اس کے ہاتھ پکڑے۔

اور اس کی کلائیوں میں گجرے پہنا دیے۔

اشمل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔

اس کے ہاتھ ابھی بھی زرار کے ہاتھوں میں تھے۔

زرار نے دھیرے سے کہا۔

"عید مبارک۔"

اشمل نے نظریں جھکا لیں۔

"خیر مبارک…
۔۔۔۔۔۔ ختم شد۔۔۔۔
❤️✨️💐
یہ میری پہلی تحریر ہے۔۔ امید کرتی ہوں۔۔آپ کو پسند آئے گی۔۔
مومنہ الیاس۔۔۔

26/05/2026

ناول: دھوپ،عید اور تم
رائٹر: مومنہ الیاس
قسط نمبر 03

کچھ دیر بعد آئرہ کچن سے باہر آئی۔
ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی۔ اس کے انداز میں سادگی اور ذمہ داری تھی۔

وہ ایک ایک کر کے سب کو چائے دینے لگی۔

"یہ لیں…" وہ مختصر سا کہتی گئی۔

زرار کے سامنے آ کر وہ رکی، کپ رکھا اور بغیر زیادہ تاثر کے بس اتنا کہا:

"چائے…"

زرار نے سر ہلایا۔

"شکریہ۔"

آئرہ نے ہلکی سی نظر ڈالی اور آگے بڑھ گئی۔
نہ کوئی پہچان، نہ کوئی خاص بات… بس ایک مہذب سی ملاقات۔

ــــــــــــــــــ

گھر میں باتیں چلتی رہیں۔
زرار بھی باقی لوگوں کے ساتھ گفتگو میں شامل تھا، مگر زیادہ خاموشی سے سن رہا تھا۔

آئرہ اپنا کام مکمل کر کے دوبارہ کچن میں چلی گئی۔

ــــــــــــــــــ

کچھ وقت گزر گیا۔

دروازہ کھلا اور اشمل اندر داخل ہوئی۔
اس کے ہاتھ میں اس کی practical notebook تھی اور چہرے پر تھکن واضح تھی۔

"امی! آج بہت تھک گئی ہوں…" وہ اندر آتے ہی بولی۔

اس کی ماں نے اسے دیکھا۔

"پہلے سب سے مل لو، پھر آرام کرنا۔"

اشمل نے سر ہلایا اور آگے بڑھ گئی۔

ــــــــــــــــــ

ہال میں آتے ہی اس کی نظر زرار پر پڑی۔

وہ ایک لمحے کو رکی۔

زرار نے بھی اسے دیکھا۔

اشمل ڈر سی گئی۔۔۔

اور وہ آگے بڑھ کر باقی لوگوں سے ملنے لگی۔

ــــــــــــــــــ

اب گھر میں سب اپنی اپنی جگہ پر تھے۔
آئرہ کچن میں مصروف، اشمل مہمانوں سے مل رہی تھی، اور زرار خاموشی سے سب کو دیکھ رہا تھا۔

اور یہ ایک عام سا دن…
باہر سے جتنا سادہ لگ رہا تھا، اندر اتنا ہی آہستہ آہستہ کچھ بدلنے کی طرف جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کافی گہری ہو چکی تھی۔
گھر میں خاموشی تھی، صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
اشمل اپنے کمرے میں بیٹھی بےچینی سے فون دیکھ رہی تھی۔
اس نے کئی بار زرار کو کال کرنے کی کوشش کی تھی… مگر اس کا فون بند آ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔
"آخر وہ کال کیوں نہیں اٹھا رہا…" وہ آہستہ سے بڑبڑائی۔
کچھ دیر بعد اس نے دوبارہ ہمت کی اور نمبر ڈائل کیا۔
اس بار کال connect ہو گئی۔
ــــــــــــــــــ
دوسری طرف زرار گاڑی میں بیٹھا تھا۔
فون اس کے ہاتھ میں تھا… اور چہرے پر سختی۔
جیسے ہی اس نے کال اٹھائی، اس کی آواز تیز تھی۔
"ہاں! اب کیا رہ گیا ہے؟"
اشمل ایک لمحے کے لیے خاموش ہوگئی۔
"زرار… آپ ناراض ہیں؟ میں پچھلے کئی دن سے آپ کو کال کر رہی ہوں، آپ کا فون بند آ رہا تھا…"
زرار نے بات کاٹ دی۔
"ناراض؟ تمہیں اب پوچھنا ہے ناراض ہوں یا نہیں؟"
اشمل کا دل دھک سے رہ گیا۔
"میں نے کیا کیا ہے…؟" اس نے آہستہ سے کہا۔
زرار کی آواز اچانک اور سخت ہو گئی۔
"تمہیں نہیں پتا تم نے کیا کیا ہے؟"
"میں نے… کچھ نہیں کیا…"
زرار نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔
"کچھ نہیں کیا؟ تم نے میری آنکھوں کے سامنے ایک معصوم لڑکی کی تصویر مجھے بھیجی… اور مجھے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ تم ہو۔۔
!"میں نے آپکی اپنی ہی تصویر بھیجی تھیں
"غلطی؟ تمہیں لگتا ہے یہ غلطی تھی؟
"تم نے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی! مجھے بیوقوف بنایا!"
اشمل کی آنکھیں بھر آئیں۔
"نہیں زرار… میں نے ایسا کچھ نہیں کیا…" اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
"تو پھر کیا کیا؟" زرار نے سختی سے پوچھا۔
اشمل کچھ لمحے خاموش رہی۔
پھر آہستہ سے بولی:
"میں نے صرف… صرف ایک غلط بات کی تھی…"
"کون سی؟"
اشمل نے گہرا سانس لیا۔
"میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میں BSCS کر رہی ہوں…"
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
زرار کی گرفت فون پر سخت ہو گئی۔
"اور یہ جھوٹ کیوں بولا؟"
اشمل کی آواز نرم ہو گئی۔
Age difference????
"میں نہیں جانتی تھی کہ اس میں اتنا مسئلہ بن جائے گا…"
"مسئلہ؟" زرار کی آواز بھاری ہو گئی۔
"تم نے پورا اعتماد ہلا دیا ہے اشمل…"
اشمل کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
"میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا… میں بس… آپ سے ڈر رہی تھی…"
وہ بہت غصہ میں تھا۔
… اعتماد ایسے نہیں بنایا جاتا اور ایسے نہیں توڑا جاتا…"
اشمل خاموش ہو گئی۔
"میں نے تمہیں سچ مانا تھا…" زرار نے آہستہ سے کہا۔
اشمل نے روتے ہوئے کہا:
"مجھے معاف کر دیں…"
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
صرف دونوں کی سانسوں کی آواز تھی۔
زرار نے سخت لہجے میں کہا:
ابھی کچھ مت کہو۔۔۔۔…
اور کال ختم ہو گئی۔
ــــــــــــــــــ
اشمل فون ہاتھ میں لیے روتی رہی۔
اسے اب بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اصل غلطی کیا تھی…
اس کے ذہن میں بس ایک ہی بات گھوم رہی تھی…
"وہ مجھ سے ناراض کیوں ہے… صرف ایک جھوٹ کی وجہ سے؟" ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرار کی خاموشی اب غصے سے آگے نکل چکی تھی۔
وہ اشمل کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا، نہ کال اٹھا رہا تھا اور نہ ہی کوئی رابطہ رکھ رہا تھا۔

اشمل بار بار کوشش کرتی رہی، مگر ہر بار ایک ہی چیز ملتی…
خاموشی۔

ــــــــــــــــــ

دوسری طرف زرار نے ایک فیصلہ کر لیا تھا۔

وہ گھر بیٹھا تھا جب ڈاکٹر سمینہ نے آ کر بات کی۔

"زرار… آئرہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟"

زرار چند لمحے خاموش رہا۔

پھر آہستہ سے بولا:

"اگر آپ لوگ مناسب سمجھیں تو… میں راضی ہوں۔"

ڈاکٹر سمینہ کے چہرے پر سکون آ گیا۔

"تو پھر ہم آئرہ کے گھر بات کر لیتے ہیں۔"

زرار نے صرف سر ہلایا۔

ــــــــــــــــــ

اُسی دن آئرہ کے گھر رشتہ لے جانے کی بات طے ہو گئی۔

آئرہ کو جیسے ہی پتہ چلا، وہ غصے سے ابل پڑی۔

"میں یہ شادی نہیں کروں گی!"

اس کی آواز پورے گھر میں گونج گئی۔

"مجھے نہیں پسند یہ سب!"

مگر اس کے والدین سنجیدہ تھے۔

"یہ فیصلہ تمہارے اکیلے کا نہیں ہے آئرہ۔"

آئرہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"آپ لوگ میری بات کیوں نہیں سن رہے؟"

مگر کوئی جواب نہیں تھا۔

ــــــــــــــــــ

ادھر زرار اور اس کا گھر آئرہ کے گھر آ چکے تھے۔
رسمی باتیں ہو رہی تھیں۔

زرار خاموش بیٹھا تھا۔
اس کے چہرے پر نہ خوشی تھی نہ بےچینی، بس ایک سنجیدگی تھی۔

آئرہ بار بار اندر سے باہر آتی اور غصے میں واپس چلی جاتی۔

ــــــــــــــــــ
وہ اریب سے مسلسل رابطے میں تھی۔۔۔
اُسی دوران اس نے اریب کو فون کیا۔

"یہ کیا ہو رہا ہے؟ مجھے کوئی نہیں پوچھ رہا!"

اریب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

سب کو سچ بتا دو۔"

آئرہ نے روتے ہوئے کہا:

"میں نے کچھ غلط نہیں کیا… پھر مجھے کیوں مجبور کیا جا رہا ہے؟"

اریب نے سختی سے کہا:

"چالاکی مت کرو آئرہ… سچ بول دو ابھی بھی وقت ہے۔"

مگر آئرہ نے فون بند کر دیا۔

ــــــــــــــــــ

رشتہ طے ہو گیا۔
Engagements کی تاریخ بھی فائنل کر دی گئی۔

آئرہ کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی۔

"میں نے کیا کیا ہے…؟" وہ خود سے بار بار پوچھ رہی تھی۔

"یہ سزا کیوں مل رہی ہے مجھے؟"

ــــــــــــــــــ3

زرار اس وقت خاموش تھا۔
نہ اس نے انکار کیا، نہ کوئی خوشی ظاہر کی۔

مگر اس کے دل میں اشمل کا خیال کہیں دور دب گیا تھا…
جہاں سے اب اس کا واپس آنا مشکل لگ رہا تھا۔

ــــــــــــــــــ

اور اشمل…

وہ اب بھی فون ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔

"میری اتنی بڑی غلطی بھی نہیں تھی…" وہ آہستہ سے بولی۔
"پھر مجھے اتنی بڑی سزا کیوں مل رہی ہے…؟۔۔

ٹھیک ہے، اس بار میں اسے clear، simple اور strong timeline کے ساتھ لکھ رہا ہوں تاکہ کوئی confusion نہ رہے۔

---

زرار اور آئرہ کی منگنی ایک سادہ سی تقریب میں ہو گئی تھی۔
گھر کے چند قریبی لوگ موجود تھے، کوئی شور نہیں، کوئی خوشی کا بڑا اظہار نہیں۔

زرار پورے وقت خاموش رہا۔
اس نے نہ انکار کیا، نہ زیادہ دلچسپی دکھائی۔ بس ایک سنجیدہ سا انداز تھا، جیسے وہ سب کچھ قبول کر چکا ہو۔

اشمل بار بار اسے دیکھتی رہی، مگر زرار کی آنکھوں میں کوئی خاص احساس نہیں تھا۔

تقریب ختم ہوئی…

ــــــــــــــــــ

اشمل کو جب منگنی کا پتا چلا تو وہ ایک دم خاموش ہو گئی۔

"تو تم یہیچاہتےتھے۔۔" وہ آہستہ سے بولی۔

اس کی آنکھوں میں دکھ تھا، مگر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے زیادہ تکلیف کس بات کی ہے—
جھوٹ کی یا زرار کی خاموشی کی۔
اس نے خود سے کہا"۔

اور اسی دن کے بعد اس نے زرار سے ہر رابطہ ختم کر دیا۔

نہ کال، نہ میسج، نہ کوئی جواب۔

ــــــــــــــــــ

مہینے گزرے… پھر سال۔

زندگی آگے بڑھ گئی۔ مگر رشتے وہیں کہیں رک گئے۔

زرار کی فیملی گھر کے ساتھ والے نئے گھر میں شفٹ ہو گئی۔
سب کچھ بدل گیا، مگر خاموشی وہی رہی۔

ــــــــــــــــــ

آئرہ اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتی تھی۔

ماں کہتیں:
"آئرہ باہر نکلا کرو…"

وہ جواب دیتی:
"مجھے ٹھیک لگتا ہے یہاں۔"
وہ ہر وقت فون پر اریب سے لڑتی رہتی تھی۔۔۔
اس کا رویہ سرد ہوتا جا رہا تھا، مگر اندر سے وہ خود بھی الجھی ہوئی تھی۔

ــــــــــــــــــ

زرار اب پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔
نہ زیادہ بات کرتا، نہ جذبات ظاہر کرتا۔

اس کی زندگی صرف کام تک محدود ہو گئی تھی۔
جیسے اس نے اپنے اندر ہر احساس بند کر دیا ہو۔

ـــــــــــــــــ

اشمل اب میڈیکل کالج میں تھی۔
پڑھائی میں مصروف تھی، مگر دل کے کسی کونے میں اب بھی ایک سوال تھا۔

"آخر سچ کیا تھا؟"

مگر وہ خود کو روک لیتی۔

"اب پرانی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں…"

ــــــــــــــــــ

اریب پریس میں تھا اسے آئرہ کی بہت فکر تھی۔۔۔ بہت محبت بھی تھی۔۔۔۔ وہ اسی کوشش میں تھا آئرہ کو وہاں بلائے ۔۔۔ لیکن گھر کا انتظام بھی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

وقت گزرتا رہا۔

زرار لاہور سے پشاور پوسٹنگ پر چلا گیا۔
تین سال ہو گئے۔

آئرہ اور اریب ایک ہی رشتے میں بندھ کر بھی ایک دوسرے سے دور رہے
زرار نے منگنی کار تو لی تھی لیکن آئرہ کبھی اس سے ایک بات بھی نہیں کی تھی۔۔۔ یہ بات بہت پریشان کرتی تھی۔۔۔
۔
اور اشمل آئرہ اور اریب کے بارے میں جان چکی تھی لیکن اسے ان دونوں سے کوئی مطلب نہیں تھا۔۔ اسی لیے خاموش رہی۔۔… اپنی دنیا میں آگے بڑھ گئی، مگر مکمل نہیں۔

ــــــــــــــــــ

اور سب سے بڑی حقیقت یہ تھی…

کہ چاروں اپنی اپنی جگہ ٹھیک بھی تھے…
اور کہیں نہ کہیں غلط بھی۔

مگر کوئی بھی سچ مکمل نہیں جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔

26/05/2026

ناول: دھوپ،عید اور تم
رائٹر: مومنہ الیاس
قسط نمبر 02

ادھر اریب خاموش تھا۔

وہ آئرہ کو جانتا تھا… اس کی ضد، اس کی سوچ، اور اس کی آزادی کی خواہش۔
اس نے بہت شور مچایا ہو گا۔۔۔

مگر اب اس کے سامنے مسئلہ بڑا تھا۔

جرمنی کا خواب…

اور آئرہ کا وجود…

دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔

وہ فیصلہ کر چکا تھا اب نہیں رکے گا۔۔۔۔
---

رات کے وقت…

اریب اپنی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔ باہر سڑک کی لائٹس دھندلی ہو رہی تھیں۔

اس کے ہاتھ میں موبائل تھا، مگر وہ کسی کو میسج نہیں کر رہا تھا۔

بس سوچ رہا تھا…
اس کا فون بجا اس توقع کے مطابق آئرہ ہی تھی۔۔۔
" رونا تو بند کرو" آئرہ نے کچھ ایسا کہا وہ خیران رہ گیا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ !!!!!!

“کیا میں واقعی سب چھوڑ کر جا سکتا ہوں؟” ایک آواز اس کے راستے میں آگی تھی۔۔

اور دوسری طرف…

آئرہ اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ بند کر کے بیٹھی تھی۔

اس کے چہرے پر وہی ضد تھی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سا بوجھ بھی تھا۔

“یہ لوگ میری زندگی کے فیصلے کیوں کرنا چاہتے ہیں؟”

وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس آئی۔

اور باہر دیکھنے لگی…

جہاں رات خاموش تھی، مگر اندر ہر دل شور میں تھا۔

کل اہم دن تھا۔۔۔ !!!!! آئرہ فیصلہ کر چکی تھی!!!!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشمل اپنی بیڈ پر لیٹی فون اسکرول کر رہی تھی مگر اُس کی نظریں بار بار صرف ایک ہی چیٹ پر جا کر رک جاتی تھیں۔
"زرار ابراہیم"
وہ بےاختیار مسکرائی۔
کل رات کی باتیں اُسے اب تک یاد تھیں۔
اُسی وقت فون پر نوٹیفکیشن آیا۔
زرار:
"سوئی نہیں ابھی تک؟"
اشمل نے فوراً فون اٹھایا مگر پھر خود کو روکا۔
چند سیکنڈ سوچنے کے بعد اُس نے جواب ٹائپ کیا۔
"نیند نہیں آ رہی۔"
اُدھر زرار اپنے کمرے کی لائٹ بند کیے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
"یا کسی کا انتظار تھا؟"
اشمل نے آنکھیں گھمائیں۔
"آپ خود کو بہت اہم سمجھتے ہیں؟"
"غلط سمجھتا ہوں؟"
اشمل جواب لکھتے لکھتے رک گئی۔
پتہ نہیں کیوں… اُس کے دل کی دھڑکن ذرا تیز ہوگئی تھی۔
۔۔۔۔۔
"مجھے کیا پتا تھا…"
اشمل نے آہستہ سے کہا۔
زرار کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
"تو مطلب… فرق پڑا تھا؟"
اشمل فوراً خاموش ہوگئی۔
کچھ لمحے دونوں طرف صرف سانسوں کی آواز تھی۔
پھر زرار نے ہلکے لہجے میں کہا۔
"ویسے ایک بات پوچھوں؟"
"ہمم؟"
"تم ہر وقت اتنا attitude دکھاتی ہو یا صرف میرے لیے special ہے؟"
اشمل بےاختیار ہنس دی۔
"آپ کو واقعی لگتا ہے آپ بہت special ہیں۔"
"ہوں تو۔"
"خود ہی مان بھی لیتے ہیں؟"
"کیونکہ سامنے والی ماننے میں دیر لگا رہی ہے۔"
اشمل نے فوراً موضوع بدل دیا۔
"ویسے آپ کی بہن بہت cute ہے۔"
"اور میں؟"
"آپ؟"
وہ جان بوجھ کر رکی۔
"آپ annoying ہیں۔"
زرار ہنس پڑا۔
ــــــــــــــــــ
وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔
دونوں کی باتیں اب روز کا معمول بن چکی تھیں۔
صبح کے "good morning" سے لے کر رات کے آخری میسج تک…
ہر چھوٹی بات اب ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔
کبھی لڑائی…
کبھی ناراضی…
کبھی بےوجہ کی بحث…
مگر پھر بھی دونوں ایک دوسرے کے بغیر دن مکمل نہیں کر پاتے تھے۔
تین چار مہینوں میں اُن کے درمیان جھجھک کافی حد تک ختم ہوچکی تھی۔
اشمل اب اُس کے سامنے پہلے جیسی formal نہیں رہی تھی۔
اُس رات بھی دونوں کال پر تھے۔
اشمل اپنی balcony میں بیٹھی ٹھنڈی ہوا محسوس کر رہی تھی جبکہ زرار اپنی گاڑی کی back seat پر سر ٹکائے اُس کی باتیں سن رہا تھا۔
"پھر میں نے اُسے صاف کہہ دیا کہ غلطی میری نہیں تھی!"
اشمل مسلسل بول رہی تھی۔
"ہمم…"
زرار نے ہلکی آواز میں جواب دیا۔
اشمل فوراً رک گئی۔
"آپ سن بھی رہے ہیں؟"
"بالکل سن رہا ہوں۔"
"تو میں نے ابھی کیا کہا؟"
زرار خاموش ہوگیا۔
اشمل ہنسنے لگی۔
"دیکھا! آپ سن ہی نہیں رہے تھے۔"
"میں تمہیں سن رہا تھا… باتوں کو نہیں۔"
اُس کے لہجے کی سنجیدگی پر اشمل چند لمحے خاموش ہوگئی۔
پھر زرار نے اچانک کہا۔
"ایک بات کہوں؟"
"کہیں۔"
"تصویر بھیج دو اپنی۔"
اشمل فوراً سیدھی ہو کر بیٹھی۔
"کیا؟ کیوں؟"
"کیونکہ ہر بار تم topic change کر دیتی ہو۔"
"تو؟"
"تو اب دیکھنا ہے آخر وہ لڑکی کیسی لگتی ہے جو ہر وقت مجھے lecture دیتی رہتی ہے۔"
اشمل کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی مگر اُس نے خود کو normal ظاہر کیا۔
"میں picture نہیں بھیجتی۔"
"ڈر رہی ہو؟"
"کس سے؟"
"کہیں میں impress نہ ہو جاؤں۔"
"Please… already bohat overconfident ہیں آپ۔"
زرار ہلکا سا ہنسا۔
"اشمل۔"
"ہمم؟"
"Trust نہیں ہے مجھ پر؟"
اُس کے سنجیدہ لہجے نے اشمل کو خاموش کردیا۔
کچھ لمحوں بعد اُس نے gallery کھولی۔
انگلی کئی تصویروں پر رکی… پھر آخرکار اُس نے ایک سادہ سی picture select کی۔
کھلے بال…
ہلکی سی مسکراہٹ…
اور آنکھوں میں عجیب سی نرمی۔
Send دبانے کے بعد اُس کا دل بےاختیار تیزی سے دھڑکنے لگا۔
چند سیکنڈ بعد "Seen" آیا۔
مگر دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔
اشمل نے فوراً لب بھینچے۔
"Hello? زندہ ہیں آپ؟"
کوئی جواب نہیں۔
"زرار؟"
اچانک اُس کا میسج آیا۔
"تم واقعی اِتنی خوبصورت ہو… یا یہ صرف اچھی lighting کا کمال ہے؟"
"Hello? زندہ ہیں آپ؟"
چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔
پھر زرار کا میسج آیا۔
"1 scen کیوں بھیجی ہے؟"
اشمل فوراً سیدھی ہو کر بیٹھی۔
"یقین نہیں آ رہا؟؟"
"نہیں "
اُس نے تیزی سے جواب دیا۔
زرار بےاختیار مسکرایا۔
"کیا ہمیشہ ایسے الٹے جواب ہی دیتی رہو گی؟؟؟"
"جی!!!"
"اللہ اللہ…"
اشمل کی ہنسی چھوٹ گئی۔
زرار اُس کی ہنسی سنتے ہوئے چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا۔
"ویسے…"
"ہمم؟"
"تمہاری smile picture سے زیادہ اچھی ہے۔"
اشمل کے لبوں کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ گہری ہوگئی۔
"Flirt کر رہے ہیں آپ؟"
"اگر کہوں ہاں؟"
"تو میں call بند کر دوں گی۔"
"دل توڑنے والی لڑکی۔"
اشمل نے ہنسی روکتے ہوئے سر جھٹکا۔
"Drama کم کریں۔"
زرار ہلکا سا ہنسا مگر اگلے ہی لمحے اُس کا لہجہ بدل گیا۔
"ایک اور picture بھیجو۔"
"نہیں۔"
"کیوں؟"
"بس نہیں۔"
"اشمل۔"
"زرار۔"
اُس نے اُسی کے انداز میں جواب دیا۔
چند لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر زرار دھیمی آواز میں بولا۔
"تم جانتی ہو نا… اب عادت بنتی جا رہی ہو؟"
اشمل کا دل ایک لمحے کو خاموش سا ہوگیا۔
ہوا اب بھی ویسے ہی چل رہی تھی…
مگر نہ جانے کیوں اُسے پہلی بار ڈر محسوس ہوا۔۔
اور اسے ڈرنا بھی چاہیے تھا ۔۔ کیونکہ وہ ایک بہت بڑی غلطی کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
—------------
صبح کا وقت تھا۔
عدالت کے باہر لوگوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق تھی، مگر آئرہ کے دل میں عجیب سی بےچینی تھی۔

وہ سادہ سے کپڑوں میں کھڑی تھی، ہاتھ میں شناختی کارڈ اور آنکھوں میں ہزار سوال۔

اُس کے ساتھ عریب کھڑا تھا… بالکل خاموش۔
اس کے چہرے پر نہ زیادہ خوشی تھی، نہ زیادہ گھبراہٹ—بس ایک سنجیدگی تھی۔

"تم ٹھیک ہو؟"
عریب نے آہستہ سے پوچھا۔

آئرہ نے سر ہلایا مگر جواب نہیں دیا۔

اُس کا دل بار بار ایک ہی سوال کر رہا تھا…
"میں یہ کر کیا رہی ہوں؟"

ــــــــــــــــــ

کچھ دیر بعد اندر بلایا گیا۔

جج کے سامنے دونوں کھڑے تھے۔
قانونی کاغذات میز پر رکھے تھے۔

"دونوں اپنی مرضی سے یہ نکاح کر رہے ہیں؟"

کمرہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوگیا۔

آئرہ نے لب بھینچے۔
اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

عریب نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔
پھر آہستہ سے بولا۔

"جی۔ اپنی مرضی سے۔"

سب کی نظریں اب آئرہ پر تھیں۔

وہ لمحہ…
جیسے وقت رک گیا ہو۔

آئرہ نے گہرا سانس لیا۔

"جی…"

بس ایک لفظ۔
مگر اُس لفظ کے ساتھ اُس کی پوری زندگی بدلنے والی تھی۔

ــــــــــــــــــ

کاغذات پر دستخط ہوئے۔
اور پھر وہ لفظ ادا ہوا جس نے دونوں کو ایک بندھن میں باندھ دیا۔

نکاح مکمل۔

ــــــــــــــــــ

باہر نکلتے ہوئے آئرہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔
دھوپ تیز تھی مگر اُس کے اندر ایک عجیب سا خالی پن تھا۔

"اب کیا؟"
اُس نے آہستہ سے پوچھا۔

عریب نے جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے ہو کر کہا۔

"اب ہم ایک نیا مسئلہ شروع کر چکے ہیں۔"

آئرہ نے اس کی طرف دیکھا۔

"مسئلہ؟"

عریب نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔

"ہاں… کیونکہ ہم دونوں نے آسان راستہ نہیں چنا۔"

آئرہ کچھ نہ بولی۔

مگر اُس کی خاموشی بہت کچھ کہہ
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشمل زرار سے یہ بات چھپا چکی تھی کہ وہ ابھی سیکنڈ ائیر میں ہے۔
اُس نے خود کو BSCS کی طالبہ بتایا ہوا تھا۔
تاکہ وہ اسے کم عمر نہ سمجھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس دن وہ گھر میں ہی موجود تھا۔

ڈاکٹر سمینہ صوفے پر بیٹھی تصویریں دیکھ رہی تھیں اور ساتھ ہی فاریہ بھی اُن کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔

"یہ کیا ہو رہا ہے؟"

زرار نے آ کر ہلکے سے فاریہ کے سر پر پیار سے چپت لگائی۔

فاریہ نے فوراً منہ بنایا۔

"بھابھی دیکھ رہی ہوں!"

زرار نے بھنویں اٹھائیں۔

"اچھا جی…"

وہ اُن کے قریب بیٹھ گیا۔
اس کی نظر جب اسکرین پر پڑی تو وہ فوراً رک گیا۔

تصویر…

آئرہ کی تھی۔

زرار کا چہرہ لمحے بھر میں سنجیدہ ہو گیا۔

"یہ…!"

ڈاکٹر سمینہ نے اُس کی طرف دیکھا۔

"یہ آئرہ ہے۔ تمہارے بابا کے دوست کی بیٹی ہے۔ وہی جنہوں نے لاہور میں زمین کے معاملے میں بہت مدد کی تھی، اور اب گھر بنانے میں بھی ساتھ دے رہے ہیں۔ بہت اچھے لوگ ہیں۔"

زرار خاموش کھڑا تھا۔

اس کے ذہن میں ایک ہی نام گونج رہا تھا…

آئرہ… یا اشمل؟

ــــــــــــــــــ

ڈاکٹر سمینہ نے بات جاری رکھی۔

"آج ہم اُن کے گھر جا رہے ہیں۔ تم بھی تیار ہو جانا۔"

مگر زرار نے ان کی بات پوری سنی ہی نہیں۔

اس کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا تھا۔

جو تصویر وہ دیکھ رہا تھا…
اور جو لڑکی وہ جانتا تھا…

دونوں میں ایک عجیب سا فاصلہ تھا۔

"میں… باہر جا رہا ہوں۔"

اس نے بس اتنا کہا اور فوراً گھر سے نکل گیا۔

ــــــــــــــــــ

باہر آ کر اس نے ایک لمبا سانس لیا۔

ہوا گرم تھی… مگر اس کے اندر کا غصہ اور الجھن اس سے بھی زیادہ تیز تھی۔

"آخر تم ہو کون…؟"

وہ آہستہ سے خود سے بولا۔

ایک طرف وہ لڑکی تھی جس سے وہ روز بات کرتا تھا… ہنستا تھا… لڑتا تھا…
اور دوسری طرف ایک نام تھا جو ہر بار بدل جاتا تھا۔

اشمل… آئرہ…

ــــــــــــــــــ

اور آج پہلی بار زرار کو احساس ہوا تھا کہ
یہ صرف ایک غلط فہمی نہیں…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشمل اپنے امتحان میں بہت مصروف تھی کھانے پینے کو بھول گئی تھی۔۔۔۔
زرار نے کال کی فون اس سے مما لے چکی تھی۔۔۔
زرار کا شک بڑھتا گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں آج مہمانوں کی آمد کا ماحول تھا۔
ہلکی سی مصروفیت تھی، کوئی چائے بنا رہا تھا، کوئی برتن سمیٹ رہا تھا، اور گھر کا ہر فرد کسی نہ کسی کام میں لگا ہوا تھا۔

زرار اپنی فیملی کے ساتھ اندر آیا تو گھر والوں نے خوش دلی سے استقبال کیا۔
سب عام سی باتوں میں مصروف ہو گئے، نہ کوئی خاص سنجیدگی تھی اور نہ ہی کوئی غیر معمولی بات۔

زرار خاموشی سے بیٹھ گیا۔ وہ بس ماحول کو observe کر رہا تھا، جیسے یہ اس کے لیے ایک عام سی ملاقات ہو۔

ــــــــــــــــــ

جاری ہے۔۔

26/05/2026

ناول: دھوپ،عید اور تم
رائٹر: مومنہ الیاس
قسط نمبر 01

شہر کی شام ہمیشہ کی طرح روشنیوں، ہارنوں اور لوگوں کی بھیڑ سے بھری ہوئی تھی۔ مگر اسی شور کے درمیان ایک لڑکی ایسی بھی تھی جس کی دنیا اس سب سے بالکل الگ تھی۔

اشمل…

ایک عام سی نہیں، بلکہ ایک جانی پہچانی نام۔

اس کے سوشل میڈیا پر ایک ملین سے زیادہ فالوورز تھے۔ لوگ اسے اس کی ویڈیوز، اس کے انداز اور اس کی بےپروا ہنسی کی وجہ سے جانتے تھے۔ مگر ایک چیز ایسی تھی جو وہ کبھی پوری طرح ظاہر نہیں کرتی تھی…

اس کا مکمل چہرہ۔

کبھی آدھا زاویہ، کبھی سائے میں چھپا ہوا عکس، کبھی کیمرے سے ہٹتا ہوا چہرہ… جیسے وہ دنیا کو اپنے قریب تو آنے دیتی تھی، مگر مکمل طور پر نہیں۔

آج بھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ موبائل ہاتھ میں تھا، سامنے اس کی نئی ویڈیو چل رہی تھی جس نے کچھ ہی گھنٹوں میں وائرل ہو کر لاکھوں ویوز لے لیے تھے۔

اشمل نے اسکرین پر نظر ڈالی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی:

یاہو!!! لوگ بھی بس… ایک ویڈیو دیکھ کر پاگل ہو جاتے ہیں۔”

وہ بےپروا انداز میں اسکرول کرنے لگی، ۔

اچانک ایک ویڈیو پر اس کی انگلی رک گئی۔

وہ اس کی اپنی ہی ویڈیو تھی، مگر کسی نے کمنٹ میں ایک جملہ لکھا تھا:

> “جو لوگ سب کو ہنسا رہے ہوتے ہیں، اکثر وہ خود بہت کچھ چھپا رہے ہوتے ہیں۔”

اشمل کی بھنویں ہلکی سی چڑھ گئیں۔
یہ کون ہے پاگل ۔ ہاہاہا۔۔۔
“یہ فلسفی اب یہاں سے بھی نکل آئے؟”

وہ ہنسی اور بغیر زیادہ سوچے جواب لکھ دیا:

> “اوہ اچھا؟ پھر آپ کو سب سمجھ آتا ہے؟”

کمنٹ پوسٹ ہو گیا۔

کچھ دیر بعد نوٹیفکیشن آیا۔

وہی اکاؤنٹ…

“زرار آفیشل”

> “سمجھنے کے لیے سب کچھ کہنا ضروری نہیں ہوتا۔”

اشمل نے اسکرین کو غور سے دیکھا۔

“یہ بندہ ہے کون؟”

اس نے دوبارہ لکھا:

> “تو پھر آپ خاموش کیوں نہیں رہتے؟”

اس بار جواب آنے میں دیر نہیں لگی۔

> “خاموشی سب کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ کچھ لوگوں کو بولنا پڑتا ہے، چاہے وہ چاہیں یا نہ چاہیں۔”

اشمل کچھ لمحے خاموش رہی۔

اس کے چہرے پر وہی بےپروا مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں ہلکی سی حیرت آ گئی تھی۔

“عجیب آدمی ہے…”

---

اسی وقت دوسری طرف…

ایک سادہ مگر سخت مزاج شخص وردی میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔

کیپٹن زرار۔

اس کی زندگی نظم، خاموشی اور اصولوں کے گرد گھومتی تھی۔ وہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت نہیں گزارتا تھا، مگر آج کسی وجہ سے وہ رک گیا تھا۔

اس نے ایک ویڈیو دیکھی تھی…

ایک لڑکی کی، جو ہنستی تھی، بولتی تھی، مگر پھر بھی مکمل طور پر نظر نہیں آتی تھی۔

وہ ویڈیو دوبارہ چلائی گئی۔

زرار نے ہلکے سے کہا ڈرامہ”

وہ خود سے بولا اور موبائل رکھ دیا۔

مگر چند لمحوں بعد دوبارہ اٹھا لیا۔

---

ادھر اشمل اب اس اکاؤنٹ میں دلچسپی لینے لگی تھی۔

اس نے لکھا:

> “آپ ہر کسی کو ایسے ہی جملے بھیجتے ہیں یا خاص میں ہی خوش نصیب ہوں؟”

کچھ دیر خاموشی رہی۔

پھر جواب آیا:

> “میں ہر کسی کو نہیں دیکھتا۔ جو نظر آ جائے، اسے نظر انداز بھی نہیں کر سکتا۔”

اشمل کی انگلی رک گئی۔

یہ جملہ پہلے سے زیادہ مختلف تھا۔

اس نے آہستہ سے کہا:

“یہ عجیب سا انسان ہے… یا پھر بہت زیادہ سمجھدار۔”

پھر اس نے اسکرین کو بند کر دیا، مگر دل کے اندر ایک سوال چھوڑ دیا۔

“یہ کون ہے… کتنی مشکل باتے کرتا ہے۔۔”
ایک جھرجھری لی۔۔

---
اسی رات…

اشمل اپنی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر اندھیرے میں شہر کی روشنیوں کو دیکھ رہی تھی۔

وہ آہستہ سے مسکرائی۔

“میں تو بس ویڈیوز بناتی ہوں… یہ لوگ بھی عجیب ہیں۔”

مگر پھر اس نے موبائل اٹھایا۔

اور ایک آخری پیغام لکھا:

“آپ مجھے جانتے نہیں، اتنا انٹرسٹ کیوں؟”

کچھ لمحے خاموشی رہی۔۔۔

پھر جواب آیا:

تم بھی تو لے رہی ہو انٹرسٹ!!!!! زرار ہونٹ دانتوں تلے دبائیں۔۔۔ اپنی لگائی آگ کا سیک اسے یہاں تک آرہا تھا۔۔۔
ہو!!!!! بد تمیز ۔۔۔ دفع ۔۔۔
اشمل نے اسکرین کو بند کر دیا۔

اس بار اس کی مسکراہٹ نہیں تھی۔

بس ایک خاموشی تھی…

جس میں پہلی بار کسی نام نے جگہ بنا لی تھی۔

زرار۔

اشمل اُس کی باتوں سے بے حد متاثر ہوئی۔
اُس نے تجسس سے زرار کی آئی ڈی کھولی۔ وہاں زرار کی چند تصویریں موجود تھیں۔

وہ چھ فٹ لمبا، سانولی رنگت اور تیکھے نقوش والا شخص تھا۔
اشمل کا دل ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔

اُدھر زرار کو اُس کے پروفائل ویو کا نوٹیفکیشن مل چکا تھا۔
اور سچ تو یہ تھا کہ وہ خود بھی اشمل میں دلچسپی لینے لگا تھا۔

چند لمحوں بعد زرار نے اُسے فالو کیا اور ساتھ ہی ایک میسج بھی بھیجا۔

"جو بات کرنی ہے، یہیں کہہ سکتی ہو۔"

اشمل نے میسج دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔

"لیکن مجھے تو کوئی بات نہیں کرنی۔"

"تو پروفائل کیوں دیکھی؟"

"ایسے ہی دیکھی۔ ویسے… آپ نے بھی تو دیکھی۔"

چند لمحوں کے لیے دونوں جانب خاموشی چھا گئی۔

پھر زرار نے بات شروع کی۔

"اچھا یہ بتاؤ… نام کیا ہے تمہارا؟"

"جو لکھا ہوا ہے۔" اشمل نے شرارت سے جواب دیا۔

زرار نے منہ بنایا۔

"اشمل کوئین؟"

اِس بار اشمل نے فوراً جواب دیا۔

"نہیں… اشمل اسرار احمد۔ اور آپ کا؟"

"جو لکھا ہوا ہے۔"
زرار نے اُسی کے انداز میں کہا۔

"زرار آفیشل؟؟؟"

اب بدلہ لینے کی باری اشمل کی تھی۔
اُس کی ہنسی نکل گئی۔

"زرار ابراہیم۔"

"ہمم… اچھا نام ہے۔"

ــــــــــــــــــ

آج اتوار تھا۔
بارہ بج چکے تھے مگر اشمل ابھی تک سو رہی تھی۔

ماما اُسے کئی بار جگا چکی تھیں لیکن آ
اُسے کسی بات کی پرواہ نہیں تھی۔
کل رات وہ تین بجے تک زرار سے باتیں کرتی رہی تھی۔

اور دوسری طرف زرار بھی ابھی تک سو رہا تھا۔

"بھائی!"

فاریہ نے اُسے ہلاتے ہوئے جگایا۔

"اُٹھ جائیں، ایک بج گیا ہے!"

وہ اُس کے برابر میں لیٹ گئی اور اُس کا کندھا ہلانے لگی۔

زرار بمشکل آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔

"فون کہاں ہے آپ کا؟"

فون کا نام سنتے ہی اُس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔
فاریہ اُس کا فون ڈھونڈ رہی تھی۔

"فاری، جاؤ… میں آ رہا ہوں۔"

"اچھا جی!"

وہ فوراً اچھلتی ہوئی باہر بھاگ گئی۔
اُسے یوں کودتے دیکھ کر زرار ہنس دیا۔
وہ ابھی آٹھویں جماعت کی بچی تھی اور ہر وقت کھیل کود میں لگی رہتی تھی۔

زرار جلدی سے واش روم گیا۔
کچھ دیر بعد وہ بالوں پر تولیہ رگڑتے ہوئے اپنے بابا کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

اور ساتھ ہی تولیہ فاریہ پر پھینک دیا جو "لیڈی بگ" دیکھتے ہوئے سینڈوچ کھا رہی تھی۔

"بابا!"
فاریہ زور سے چلائی۔

"نہیں کرو یار ؟"
ڈاکٹر ابراہیم نے اُسے گھورا۔

اُسی وقت اُس کی ماما، ڈاکٹر سمینہ، کچن سے ٹرے اٹھائے باہر آئیں۔

"اِسے تنگ کیے بغیر تمہارا گزارہ نہیں ہوتا؟
اور اتنی دیر سے کیوں اُٹھے ہو؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟"

انہوں نے اُس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔

زرار نے پیار سے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"میں بالکل ٹھیک ہوں، ماما۔"

وہ محبت سے اُنہیں دیکھتے ہوئے بولا۔

ڈاکٹر سمینہ نے سب کی پلیٹوں میں کلب سینڈوچ اور کیک رکھا جبکہ فاریہ اب بھی غصے سے اُسے گھور رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج صبح کا موسم کچھ الگ سا تھا۔ ہوا میں نمی تھی اور آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے، جیسے ہر چیز کسی فیصلے کے انتظار میں ہو۔

آئرہ…

بی ایس سی ایس کی طالبہ، تیز مزاج، خود اعتماد اور تھوڑی سی ضدی لڑکی۔ وہ ہر بات پر فوراً رائے رکھتی تھی اور کسی کے سامنے جھکنا اسے پسند نہیں تھا۔

اس کی دنیا کتابوں، خوابوں اور اپنی مرضی کے گرد گھومتی تھی۔

مگر آج اس کے گھر میں خاموشی نہیں تھی…

---

دوسری طرف اریب…

ایک بینکر، ذمہ دار، مگر اندر سے تھکا ہوا انسان۔ روز ایک ہی روٹین، ایک ہی زندگی، اور وہی خالی پن جو وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔
وہ اپنی ماں کو ایک بہت اچھی زندگی دینا چاہتا تھا۔۔

اس کے دل میں ایک ہی خواہش تھی…

جرمنی جانا۔

وہ سمجھتا تھا کہ شاید وہاں جا کر اسے وہ سکون مل جائے جو یہاں کہیں نہیں۔

مگر ایک رکاوٹ تھی…

آئرہ۔
اریب کے باہر جانے کا سوچ کر آئرہ کی آنکھوں میں آنسو آجائے تھے۔ ۔۔ جو اریب کی کمزوری تھے۔۔


اریب نے کئی بار سوچا تھا، مگر آج اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔

وہ اپنی والدہ کے پاس آیا۔ وہ ایک مضبوط مگر محنتی عورت تھی، جو اکیلے گھر اور زندگی دونوں سنبھال رہی تھیں۔

اریب نے آہستہ سے کہا:

“امی… میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔ میں جرمنی جانا چاہتا ہوں، اپنے ماموں کے پاس۔ وہاں کچھ بہتر موقع مل سکتا ہے۔”

اس کی ماں نے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں تھکن تھی مگر بیٹے کے لیے محبت بھی۔

“اور آئرہ؟” انہوں نے آہستہ سے پوچھا۔

اریب خاموش ہو گیا۔

یہ وہ سوال تھا جس کا جواب اس کے پاس مکمل نہیں تھا۔

آپ ایک آخری بار میرے لیے کوشش کریں۔۔ اریب ان کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔۔ سران کی گود میں رکھ لیا۔۔۔ کئی آنسو تھے جو ان کی گود میں جذب ہو گئے تھے۔۔۔ اریب کے والدین زارار اور سلطان کی لو میریج تھی۔۔
--

اسی وقت گھر کے دوسرے حصے میں بات چل رہی تھی…

آئرہ کے گھر میں اس کے رشتے کی بات آئی تھی۔

اریب کی والدہ خود رشتہ لے کر آئی تھیں۔ کیونکہ دونوں خاندان پہلے سے رشتہ دار تھے، آئرہ کے والد اور اریب کی والدہ آپس میں کزن تھے۔

مگر جیسے ہی بات آگے بڑھی…

آئرہ کے گھر والوں نے صاف انکار کر دیا۔

“ہمیں یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔”
میں تمہیں اپنی بیٹی نہیں دو گئی۔۔ آئرہ کی ماں سعدیہ نے نفرت سے کہا۔۔ ایک وقت تھا دونوں بہت پکی دوست تھی لیکن جب زارا نے سعدیہ کے بھائی ادریس سے شادی سے انکار کیا دونوں کی دوستی ختم ہو گئی۔۔۔ آئرہ کے والد اور چچا نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔ وہ اس کے سامنے بے بس تھے۔۔۔
" ایک بار اپنی بیٹی سے پوچھ لو۔۔۔
"وہ میری بیٹی ہے تم جیسی نہیں۔۔۔ "
یہ جملہ جیسے ہوا میں چھری کی طرح چلا۔۔
سعدیہ بس!!!!! آئرہ کے بابا ابرار بولے۔۔۔ اسرار اور شمع (اشمل کے ماں باپ) کو بھی اس کی بات پسند نہیں آ رہی تھی۔۔۔
اریب کی والدہ کے چہرے پر ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر غصہ آ گیا۔

“آخر مسئلہ کیا ہے؟ لڑکا شریف ہے، ذمہ دار ہے، کام کرتا ہے!”

مگر جواب وہی تھا۔۔

آئرہ کے والد نے کچھ نہیں کہا، مگر گھر کا ماحول بدل گیا تھا۔

اریب کی والدہ باہر نکل آئیں، مگر ان کے چہرے پر ناراضگی واضح تھی۔

“یہ لڑکی… بہت تیز ہے، اور مجھے پہلے ہی پسند نہیں تھی اس کا انداز بلکل ماں جیسا ہے۔۔”

مگر دل میں کہیں نہ کہیں وہ اریب کی خوشی کے لیے خاموش بھی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔
آئرہ کو جب اس رشتے کے بارے میں بتایا گیا، تو وہ سیدھی کھڑی ہو گئی۔

“میں نے کوئی فیصلہ نہیں بدلنا۔ مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔”

اس کی آواز میں سختی تھی، اور آنکھوں میں بےپرواہ اعتماد۔

گھر والوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ اپنی جگہ قائم رہی۔

“میں اپنی زندگی خود جیو گی۔ کسی کے کہنے پر نہیں۔”

---

جاری ہے۔۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Clifton
Karachi