آج کا دن | جولائی 12 | اسلامی تارخ کے آئنہ میں
اسلامی تاریخ کے تین اہم تاریخی واقعات جو 12 جولائی کو پیش آئے:
1. جنگ حطین (1187 عیسوی): یہ فیصلہ کن جنگ 12 جولائی 1187 کو صلیبی جنگوں کے دوران ہوئی۔ صلاح الدین کی قیادت میں، مسلم افواج نے صلیبی فوج کو شکست دی، جس سے مقدس سرزمین کی اسلامی فتح کی جدوجہد میں ایک اہم موڑ آیا۔
2. سقوط غرناطہ (1492 عیسوی): 12 جولائی، 1492 کو، ابو عبداللہ محمد دوازدہم، جسے بوعبدل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی قیادت میں امارت غرناطہ کی مسلم افواج نے کیتھولک بادشاہوں، فرڈینینڈ اور ازابیلا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جس سے اندلس میں مسلمانوں کا عہد اختتام پذیر ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
3. امام غزالی کی وفات (1111 عیسوی): معروف اسلامی ماہر الہیات، فلسفی اور صوفی ابو حامد الغزالی کا انتقال 12 جولائی 1111 کو ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
براہ کرم نوٹ کریں کہ اسلامی کیلنڈر قمری ہے، اس لیے گریگورین کیلنڈر پر ہر سال تاریخیں تھوڑی مختلف ہو سکتی ہیں۔
Nizam E Mustafa
Political Party striving for Islamic Politics
کیا یزید پہلے اس جیش اسلام کا امیر تھا جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا؟
کون کون تحقیق کا متمنی ہے؟
09/07/2024
آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آواز میں خطبہ حجۃ الوداع کی ریکارڈنگ
از قلم: ابو محمد
محترم جسٹس (ر) غازی نذیر احمد صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں آپ نے کہا ہے کہ فرانس کی ایک کمپنی آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آواز میں خطبہ حجۃ الوداع ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، اور اب صرف آڈیو کوالٹی کو امپروو کرنے پر کام ہو رہا ہے، ممکنہ طور پر 2030 تک عوام آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی زبانِ مبارک سے خطبہ حجۃ الوداع سن سکے گی۔ عامۃ المسلمین کو جان لینا چاہیے کہ جس دور میں آپ رہ رہے ہیں وہ دورِ فتن ہے جس میں ہر چیز کو بلا دلیل و تحقیق مان لینا اپنے آپ کو ہلاکت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہو گا۔ اس لئے ناگزیر ہے کہ ہم قدم پھونک پھونک کر رکھیں اور کسی بھی بات پر یقین کرنے سے پہلے ہر پہلو پر غور کریں۔
بندہ ناچیز بحیثیت انجینئر یہ بات وثوق سے کہنا چاہتا ہے کہ ماضی کی آواز (صوتی لہروں) کی بازیافت کر کے حال میں اسے ریکارڈ کرنا ناممکن ہے۔ انسانی آواز یا صوتی لہریں مکینیکل لہریں ہوتی ہیں جو ہوا جیسے میڈیم کے ذریعے پھیلتی ہیں اور توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ ایک بار جب آواز کی لہریں سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر جاتی ہے، تو یہ منتشر ہو جاتی ہے اور اس مکینیکل صورت میں باقی نہیں رہتی کہ کسی مستقبل کے سپیس اور وقت کے کسی نقطہ پر انکی دوبارہ بازیافت کر کے ریکارڈ کیا جا سکے۔ آج بھی انسانی آواز جو براڈکاسٹ کی جاتی ہے وہ ماڈولیشن کے ذریعہ ممکن ہوئی ہے۔ مختلف قسم کی ماڈولیشن ٹیکنالوجی استعمال کر کے انسانی آواز یا صوتی لہروں کی ویولینتھ، فریکوئنسی اور انرجی کو تبدیل کر کے براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وسیع علاقہ پر اس کی ریسیونگ ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے باوجود یہ ماڈولیٹڈ صوتی لہریں، جن کو مختلف ماڈولیشن ٹیکنالوجیز استعمال کر کے براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے، اور جس کے تمام پیرامیٹرز (فریکوئنسی، ویو لینتھ اور انرجی) معلوم ہوتے ہیں، اور دنیا بھر میں ریسیونگ انٹینا انہی پیرامیٹز پر ٹیون بھی ہوتے ہیں، جب سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر جاتی ہے تو دوبارہ ریکارڈ نہیں کی جا سکتی۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ماضی میں استعمال ہونے والا ٹی وی انٹینا یا موجودہ دور میں مستعمل سیٹلائٹ ٹی وی اینٹینا ایک ہی انفارمیشن کو بار بار دکھاتے، کیونکہ اس کے پاس کئی قسم کی صوتی و صوتی لہریں ریفلیکشن اور ٹرانسمیشن کے ذریعہ بلاواسطہ و بالواسطہ پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہم نے آج ایک ڈرامہ دیکھنے کے لئے ٹی وی آن کیا ہو اور اچانک ہم نے دیکھا کہ کل والا ڈرامہ پھر ٹی وی پر غلطی سے آ رہا ہے، حالانکہ کل والا ڈرامہ بھی آج والے ڈرامہ کے پیرامیٹرز (فریکوئنسی، ویو لینتھ اور انرجی) پر ہی براڈکاسٹ کیا گیا ہوتا ہے، اور اس کی صوتی و صوری لہریں بدستور فضائے بسیط میں کہیں نہ کہیں معلق و موجود ہوتی ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود دنیا بھر میں کوئی ٹی وی اینٹنا ماضی کے سگنل کو کیوں نہیں دکھا پاتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کی ٹرانسمٹ کی ہوئی صوتی و صوری لہریں فضائے بسیط میں ڈسٹارٹ ہو جاتی ہیں، اپنی اصلی ہیت کھو دیتی ہیں، مختلف میڈیم وغیر سے ٹکرا کر انکی انرجی اس قدر کم ہو جاتی ہے جو قابلِ محسوس یا اینٹینا کی ڈیٹیکشن کے قابل نہیں رہتی، سائنس کی زبان میں کہا جائے گا کہ انکی انرجی ایٹیونیٹ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کسی صورت بھی ممکن نہیں کے ماضی کی آواز جو سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر چکی ہے اسے حال یا مستقبل کے سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ پر ریکارڈ کیا جا سکے۔ اب جو بات محترم جسٹس (ر) غازی نذیر احمد صاحب کہہ رہے ہیں، شاید ان کو بھی یہ معلوم نہ ہو کہ یہ بات پہلی بار نہیں ہو رہی۔ سب سے پہلے اس مفروضہ کو بطورِ خواہش پیش کرنے والا مرزا بشیر الدین مرتد قادیانی زنیم تھا۔ سورۃ نباء کی آیت نمبر 29 میں اللہ جل جلالہ کا فرمانِ عظیم الشان ہے کہ، "وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا"، مفہوم کہ، "اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے"۔ مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم اپنی ملحدانہ تفسیر کبیر میں اس آیت مبارکہ (قادیانی کتاب میں نمبر آیت 30 ہے) کے تحت یہ مفروضۃ پیش کرتا ہے کہ،
"مطلب یہ کہ وہ ایسی جگہ محفوظ ہیں جہاں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کوئی انسانی عمل ایسا نہیں جو ضائع ہو جاتا ہو بلکہ وہ ضرور کسی نہ کسی شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ ریڈیو کی ایجاد نے اس صداقت کو بہت بڑا ثبوت مہیا کر دیا ہے ہزاروں میل پر ایک شخص اپنی زبان سے کوئی لفظ نکالتا ہے تو فورا ہم تک پہنچ جاتا ہے اور ہم گھر بیٹھے ہزاروں ہزار میل دور کی آواز اس طرح سن لیتے ہیں جیسے وہ ہمارے پاس بیٹھا باتیں کر رہا ہے۔ مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ کوئی تعجب نہیں اگر یہ علوم ترقی کرتےکرتے اس حالت کو پہنچ جائیں کہ گزشتہ زمانہ کی آواززوں کو بھی ریکارڈ کیا جا سکے۔ اگر کوئی ایسا آلہ نکل آئے تو ہو سکتا ہے ہم رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ حدیثیں جو آج کتابوں میں پڑھتے ہیں خود رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے سن لیں۔ یہ بات موجودہ زمانہ کی ایجاد کو دیکھتے ہوئے اب ناممکن نظر نہیں آتی۔ زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے ممکن ہے آئندہ چل کر کوئی ایسا آلہ ایجاد ہو جائے اور گزشتہ زمانہ کو بھی اپنے کنٹرول میں لایا جا سکے۔ اس صورت میں ہمیں گزشتہ زمانہ کی آوازیں آسانی سے سنائی دینے لگیں گی۔ ہم جس صدی کے جس سال کی کوئی بات سننا چاہیں گے اس صدی کے اس سال پر اس آلہ کو نصب کر دیں گے اور آوازوں کو سننا شروع کر دیں گے کاش دنیا اس ترقی سے صداقت کی طرف آئے"۔
چنانچہ یہاں پر سب سے اہم بات جسے ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ آقاکریم سیدی عالم ﷺ کی آواز مبارک کو تلاش اور ریکارڈ کر کے مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم کا دنیا کو کس صداقت کی طرف بلانا مقصود ہے؟ بلاشبہ وہ قادیانی ارتدا ہی ہے۔ یاد رکھا جائے کہ یہ ملحدانہ کتاب (تفسیر کبیر) 1940 تا 1962 شائع ہوتی رہی۔ چنانچہ اس دور میں ایسی کوئی ٹیکنالوجی میسر ہی نہ تھی جس سے کسی مرتد زنیم کے دماغ میں امکانات پر مبنی یہ تصورات ابھر سکیں کہ ماضی کی صوتی لہروں کو تلاش کیا جائے اور ان کو ریکارڈ کیا جائے، حتیٰ کہ آج کے دن بھی ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جس کے ذریعہ ماضی کی فریکوئنسی یا صوتی لہر کو ریکارڈ کیا جا سکے۔ چنانچہ، یقین رکھا جائے کہ آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آوازِ مبارک کو ریکارڈ کرنے کا تصور پیش کرنا تب بھی پلانٹڈ تھا اور اب بھی یہ ریکارڈ کر لینے کا دعویٰ پلانٹڈ ہے، جس کی قبل از وقت عامۃ المسلمین میں کسی خاص مقصد کے ساتھ تشہیر کی جا رہی ہے۔ سائنس میں ایک فیلڈ ہے جس میں کسی بھی تاریخی مقام کی ہسٹوریکل اکاسٹک (تاریخی صوتیات) کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس تاریخی مقامات یا ماحول کی صوتیات کا مطالعہ کرکے، محققین بعض اوقات اس بارے میں محتاط اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماضی میں ان جگہوں پر کیسی آوازیں آتی رہی ہوں گی۔ پھر اس اندازہ کی بنیاد پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ان ماضی کی آوازوں سے ملتی جلتی آوازیں پیدا کی جاتی ہیں، جو کہ فی الحقیقت ماضی کی آوازیں یا صوتی لہریں نہیں ہوتی، بلکہ اس تاریخی مقام کے ماضی کے صوتیاتی پیٹرن کے مطالعہ پر جنریٹ کی گئی جدید آوازیں یا صوتی لہریں ہوتی ہیں۔ لہٰذہ یہی ٹیکنالوجی موجودہ (مذکورہ) صورتحال میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ کوئی امکانات موجود نہیں۔ چنانچہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کہانت کا ایک نیا باب کھلے گا جو آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی بعثت مبارکہ کے ساتھ بند ہو گیا تھا۔ طاغوت عامۃ المسلمین کو ان صوتی لہروں (آواز) بارے قائل کرے گا کہ (نعوذ باللہ) یہ آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی مبارک آواز ہے، اور پھر (نعوذ باللہ) ان صوتی لہروں میں مسلمانوں کو سینکڑوں جھوٹ سنائے گا، اور ان کو گمراہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالے گا۔
لہٰذہ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ بارے عامۃ المسلمین کو باضابطہ تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ ان کو اس ممکنہ دجل سے بچایا جا سکے۔ فتنہ اپنی پلاننگ صدیوں کی کر کے بیٹھا ہے جبکہ اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے علمِ نبوت کے وارث کہنے والے علمائے اہلسنت بد قسمتی سے غیر سیاسی بن کے بیٹھے ہیں۔ اور غیر سیاسی اذہان جہالت کی آماجگاہ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے جو عامۃ المسلمین کو ہر قسم کے نظریاتی شکاری کا آسان شکار بنا دیتے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
ٰ
لبیک یا اقصیٰ مارچ
13 جولائی 2024
تمام مسلمان شرکت کو یقینی بنائیں
احیائے امتِ مسلمہ کیلئے دعوتِ اسلامی کیا کیا فوائد سمیٹے ہوئے ہے؟ اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Address
Karachi
