02/06/2026
پریس ریلیز
این ایس ایف پاکستان کے سینٹرل آرگنائزر کامریڈ پرویز سلطانی کا رینالہ خورد، حجرہ شاہ مقیم اور ٹھینگ موڑ کا تنظیمی دورہ
این ایس ایف پاکستان کے سینٹرل آرگنائزر کامریڈ پرویز سلطانی نے رینالہ خورد، حجرہ شاہ مقیم اور ٹھینگ موڑ کے علاقوں کا تنظیمی دورہ کیا، جس کا مقصد نوجوانوں اور طلبہ کے درمیان نظریاتی و تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانا تھا۔ اس دورے میں رینالہ خورد سے این ایس ایف کے سرپرست سردار زین خان بھٹی، راوی سے میاں ذیشان عرف شانی پاشا، جبکہ حجرہ سے شان بھٹی اور رانا یاسر نے قیادت کی۔ دورے کے دوران پہلی میٹنگ دو چک والے پل پر منعقد ہوئی جس میں رینالہ خورد اور راوی کے ساتھیوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں تمام ساتھی حجرہ شاہ مقیم پہنچے جہاں مزید تنظیمی مشاورت کی گئی۔ اس کے بعد قافلے کی صورت میں ٹھینگ موڑ کے نواحی گاؤں میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے این ایس ایف پاکستان کے سینٹرل آرگنائزر کامریڈ پرویز سلطانی نے کہا کہ این ایس ایف ایک نظریاتی اور عوام دوست جدوجہد کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی حالات جنگل کے قانون کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بھوک کا شکار ہیں جبکہ دوسری طرف حکمران طبقات عوامی مسائل سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈال رہی ہے۔ اس صورتحال میں نوجوان نسل کو آگے بڑھ کر ملک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینا ہوگی اور ایک نئی، باشعور اور عوام دوست قیادت تیار کرنی ہوگی۔
اس موقع پر سردار زین خان بھٹی نے فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام مسلسل ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مسلم حکمرانوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ میاں ذیشان عرف شانی پاشا نے اپنے خطاب میں کہا کہ این ایس ایف کے نظریات اور مقاصد کو نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور تنظیم کو مزید مضبوط اور متحرک بنایا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے نوجوانوں، طلبہ اور محنت کش عوام کے مسائل کے حل کے لیے منظم جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
جاری کردہ: ادارہ اطلاعات و نشریات این ایس ایف پاکستان
Karwan e Maoism
21/05/2026
دوستو! ضلع لاہور میں 5 میل گریجویٹ کالجز سائنس کالج، ماڈل ٹاون کالج، شالیمار کالج، ایم اے او کالج اور شاہدرہ کالج جبکہ 6 فی میل کالجز رائے ونڈ کالج، ماڈل ٹاون کالج، رابعہ بصری کالج، کوئین میری کالج، اسلامیہ کالج کینٹ اور رکھ چھبیل کالج ایمینینس کی زد میں آرہےہیں۔
اگر ارادہ بنا لیا گیا ہے کہ کوئی کالج سرکار کے پاس نہیں رہنے دیا جائے گا تو سمجھ لیا جائے کہ جلد یا بدیر سب کی باری آئے گی۔ آوٹ سورسنگ کے لیے سو سے کم تعداد والے کالجز کی فہرست گزشتہ سال سے ہی مارکیٹ میں موجود ہے۔
سکولز کی آوٹ سورسنگ بھی یہی کہہ کر شروع کی گئی تھی کہ جہاں سٹوڈنٹس کی تعداد سو سے زیادہ ہوگی ان کو نہیں چھیڑا جائے گا اور اب اس کا لحاظ کیے بغیر فیز ٹو اور تھری کے لیے بھی اشتہار آ چکے ہیں۔
ہمیں اپنے ایک ایک ادارے کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لیے بھرپور مزاحمت کرنی ہے۔
حسن رشید
صدر لاہور ڈویژن
پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن
12/05/2026
پریس ریلیز
نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن سندھ
سندھ میں میرٹ کی پامالی، سرکاری نوکریوں کی بندربانٹ، کرپشن، سفارش اور سیاسی مداخلت دراصل اس فرسودہ طبقاتی نظام کا چہرہ ہے جہاں محنت کش اور غریب نوجوانوں کے مستقبل کو سرمایہ، طاقت اور تعلقات کے قدموں میں قربان کیا جا رہا ہے۔ آج تعلیم یافتہ نوجوان برسوں کی محنت، ڈگریوں اور امتحانات کے باوجود بے روزگاری، ذہنی اذیت اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ حکمران اشرافیہ اپنے بچوں اور وفاداروں کے لیے ریاستی وسائل اور ملازمتوں کو ذاتی جاگیر بنا چکی ہے۔
نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن سندھ اس صورتحال کو محض انتظامی بدانتظامی نہیں بلکہ نوجوان نسل کے خلاف ریاستی و طبقاتی جبر سمجھتی ہے۔ یہ نظام نوجوانوں کو تعلیم تو دیتا ہے، مگر روزگار نہیں۔ خواب تو دکھاتا ہے، مگر زندہ رہنے کا حق نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سندھ کا نوجوان مایوسی، اضطراب، معاشی غلامی اور خودکشی جیسے المناک حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ موجودہ استحصالی ڈھانچے میں “میرٹ” بھی صرف حکمران طبقات کے مفادات کے مطابق استعمال ہونے والا ایک کھوکھلا نعرہ بن چکا ہے۔ جب تک ریاستی اداروں، بیوروکریسی اور معیشت پر قابض اشرافیہ کا تسلط قائم رہے گا، تب تک عام نوجوان کو انصاف، روزگار اور برابری نہیں مل سکتی۔
نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن سندھ مطالبہ کرتی ہے کہ:
تمام سرکاری بھرتیوں میں فوری شفافیت کو یقینی بنایا جائے؛
کرپشن، سفارش، سیاسی مداخلت اور اقرباپروری کا خاتمہ کیا جائے؛
تمام متنازعہ بھرتیوں، امتحانات اور نتائج کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں؛
تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار اور معاشی تحفظ فراہم کیا جائے؛
ریاست نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنا بند کرے۔
ہم سندھ کے طلبہ، نوجوانوں، مزدوروں، اساتذہ، وکلا، صحافیوں اور تمام محکوم طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس استحصالی نظام کے خلاف متحد ہوں۔ کیونکہ انفرادی خاموشی صرف جبر کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ اجتماعی مزاحمت ہی تبدیلی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
وقت آ چکا ہے کہ نوجوان اپنی محرومیوں کو ذاتی ناکامی سمجھنے کے بجائے اس پورے طبقاتی نظام کی ناکامی کے طور پر دیکھیں۔ یہ جدوجہد صرف نوکریوں کی نہیں، بلکہ ایک ایسے سماج کی جدوجہد ہے جہاں انسان کی قدر سفارش، دولت اور تعلقات سے نہیں بلکہ اس کی محنت اور انسانیت سے کی جائے۔
ہمارا نعرہ:
تعلیم، روزگار اور آزادی ہمارا حق ہے
طبقاتی استحصال نامنظور
نوجوانوں کا مستقبل فروخت کرنا بند کرو
جاری کردہ:
میڈیا سیل
نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن سندھ
11/05/2026
نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کا پہلا سہ ماہی شمارہ "طالبِ علم" شائع ہو چکا ہے۔ اس کی سوفٹ کاپی نیچے دیے گئے لنک سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے، جبکہ ہارڈ کاپی پاکستان بھر میں موجود فکشن ہاؤس کی کسی بھی برانچ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ آپ ہمارے آفیشل ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں یا براہِ راست اِن باکس کر کے بھی شمارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
https://drive.google.com/file/d/1vJdU6p3TMWOMvsQtW7vpF7OkIP5AT_qp/view