13/05/2026
🟥پشتون سماج اور سیاسی کلچر کو تحلیل کرنے کی ریاستی پالیسی کی بظاہر مختلف یا مخالف سمتوں کے باہمی تعامل کا ہمیں بخوبی پتہ ہے، اصغر خان اچکزئی
🟥مذہبی انتہاپسندی،نظریاتی طور پر کھوکھلی مزاحمت اور قدرے رنگین عوامیت پسندی کا سرچشمہ ایک ہے
🟥افغانستان میں ریاستی ڈھانچے کو تہس نہس کرنے کے بعد پشتونخوا میں خدائی خدمتگاری کے شاندار اور مترقی تسلسل توڑنے کیلئے جن پراکسی قوتوں کا استعمال کیا جارہا ہے، ان کو ناکام بنانے کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کے تمام کارکن سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں
🟥اسٹیبلشمنٹ کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی، چاہے وہ خودکش حملہ آوروں کے سینڈیکیٹ کی شکل میں ہو، جی ایچ کیو سے پھوٹنے والی سونامی کی شکل میں ہو اور یا سوشل میڈیا پر امن کا لبادہ اوڑھے ہوئے جاسوسوں کی طوفان بدتمیزی کی شکل میں ہو
🟥حقیقت یہ ہے کہ ولی باغ پشتون قومی تحریک کا مرکز اور ترقی پسند انسان دوستی استعمار دشمنی، پائیدار امن اور حقیقی جمہوریت کی علامت ہے
🟥ولی باغ کے وارث، مرکزی صدر ایمل ولی خان کا بیانیہ پشتون قوم کیلئے نجات کا واحد راستہ ہے
🟥یہ بیانیہ مرکزی صدر ایمل ولی خان کا ذاتی نہیں بلکہ ایک صدی سے اوپر کے تجربات کا نچوڑ ہے اور اے این پی کے سارے کارکن مرکز سے لے کر بنیادی یونٹ تک اس بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں
🟥یہ سازش ماضی میں بھی بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ ہوئی تھی کہ پشتون قومی تحریک کا راستہ روکنے کیلئے مختلف قسم کے "نمونوں" کو لانچ کیا گیا تھا، پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ کون کس کے پے رول پر تھا؟
🟥حقیقت اسی لکیر پر ہی روز روشن کی طرح عیاں ہوئی جو رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے کھینچی تھی، وہی لکیر آج بھی ہماری ریڈ لائن ہے
🟥تقسیم در تقسیم سے جو نقصان پشتون افغان وطن کو پہنچا ہے مزید نقصانات سے بچانے کیلئے ولی باغ اور عوامی نیشنل پارٹی واحد نجات دہندہ حقیقی قوت کے طور پر موجود ہے
|

13/05/2026
11/05/2026