23/06/2026
🕊️ The room where Captain Roohullah Mohmand embraced martyrdom by throwing himself onto a su***de bomber 🇵🇰
October 25, 2016 Terrorists attacked the Quetta Police Training College. Newly recruited police cadets were trapped in a nightmare, facing gunfire and chaos in the darkness.
But Captain Roohullah Mohmand Shaheed was already on his way.
During the operation, a su***de bomber was hiding inside a room filled with young recruits. Without a second thought, Captain Roohullah rushed in and threw himself onto the bomber to protect those around him.
The explosion took his life... but saved dozens of others. 💔
A true soldier, with experience from more than 750 operations, he left behind his wedding preparations to answer the call of duty and ultimately achieved the highest honor martyrdom.
His courage, selflessness, and sacrifice will never be forgotten.
Awarded the Tamgha-e-Jurat for his bravery, Captain Roohullah Mohmand Shaheed remains an enduring symbol of valor and devotion to his country.
May Allah grant him the highest place in Jannat-ul-Firdous. Ameen. 🤲🇵🇰
22/06/2026
سرد جنگ کے دور میں جب پاک افغان سرحد کے علاقے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز تھے، پاکستان فضائیہ کے بہادر شاہینوں نے ملکی فضائی حدود کے دفاع میں غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
اس دور میں پاکستان فضائیہ کے پائلٹوں نے متعدد بار دشمن طیاروں کا مقابلہ کیا اور اپنی فضائی برتری ثابت کی۔ اسکواڈرن لیڈر اطہر بخاری جیسے دلیر ہوا بازوں نے اپنی جرات مندانہ کارروائیوں سے دنیا کی توجہ حاصل کی اور وطن کے دفاع میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔
یہ تصاویر اُن بہادر شاہینوں کی یاد دلاتی ہیں جنہوں نے ہر خطرے کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان کے آسمانوں کو محفوظ رکھا۔ ان کی قربانیاں، مہارت اور حب الوطنی آج بھی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
سلام پاکستان فضائیہ کے ان بہادر شاہینوں کو، جنہوں نے ثابت کیا کہ وطن کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا۔
🇵🇰 پاکستان زندہ آباد
✈️ پاک فضائیہ پائندہ باد
21/06/2026
باپ صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ حوصلہ، قربانی اور تحفظ کا دوسرا نام ہے۔ ایک فوجی باپ اپنے بچوں کے خوابوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی سلامتی کی ذمہ داری بھی نبھاتا ہے۔
سلام ہے اُن تمام فوجی والدوں کو جو اپنے خاندان سے دور رہ کر بھی اپنے بچوں کے لیے فخر اور قوم کے لیے ڈھال بنے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام والدوں کو سلامت رکھے اور اُن کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔
Happy Father's Day to all the brave military fathers! 🇵🇰🫡
🇵🇰❤️🫡
20/06/2026
Chief Warrant Officer (Retd.) Tariq Siddiq, Radar Fitter Ground, passed away on 17 June 2026 by the will of Almighty Allah.
Inna Lillahi wa Inna Ilayhi Raji'un (Surely we belong to Allah and to Him we shall return).
All friends and well-wishers are kindly requested to remember the deceased in their prayers and pray for his forgiveness and eternal peace.
For condolences, his son Bilal Ahmed can be contacted at: 03072768414.
SubhanAllahi wa bihamdihi, SubhanAllahil Azeem.
20/06/2026
Vice Chief Of Air Staff Pakistan Air Force with Daughter of Shaheed Flight Lieutenant Qasim.
Flt Lt Qasim embraced Shahdat During Plane Crash near Mardan Katlang.
May Allah Grant High Ranks in Jannah.
Ameen۔
20/06/2026
اس تصویر کے ساتھ ایک دلچسپ تاریخی واقعہ وابستہ ہے، جو 21 فروری 1948ء کو پیش آیا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح کا قافلہ ملیر کینٹ لنک روڈ سے گزر رہا تھا۔ یہ راستہ قائدِ اعظم عموماً استعمال نہیں کرتے تھے۔ راستے میں ایک فوجی سنتری نے قافلے کو روک لیا۔ سنتری جانتا تھا کہ گاڑی میں خود قائدِ اعظم موجود ہیں، لیکن قائدِ اعظم سے اپنی بے پناہ محبت اور اپنے فرض کی پاسداری کے باعث اس نے قافلہ روک دیا۔
سنتری نے قائدِ اعظم کو سلام کیا اور پوچھا: "سر، کیا آپ کے پاس ملیر کینٹ میں داخل ہونے کی اجازت ہے؟"
قائدِ اعظم اس سوال پر حیران ہوئے، مگر پدرانہ شفقت سے مسکراتے ہوئے فرمایا:
"نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
جب قائدِ اعظم نے نفی میں جواب دیا تو سنتری نے خوش دلی سے ایک شرط پیش کی کہ اگر قائدِ اعظم اس کی یونٹ کا دورہ کریں تو وہ انہیں گزرنے کی اجازت دے دے گا۔
قائدِ اعظم نے یہ شرط قبول کر لی۔ وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئرکرافٹ رجمنٹ تھی۔
ادھر یہ خبر پورے کینٹ میں تیزی سے پھیل گئی اور فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچ گئے تاکہ قائدِ اعظم کو اس صورتحال سے نکالا جا سکے۔ جب بریگیڈ کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے قائدِ اعظم سے درخواست کی کہ وہ اپنا سفر جاری رکھیں، لیکن قائدِ اعظم نے سنتری کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر فرمایا:
"نہیں، ہمارا پہلے ہی ایک معاہدہ ہو چکا ہے۔"
چنانچہ قائدِ اعظم نے 21 فروری 1948ء کو 5 ہیوی (اینٹی ایئرکرافٹ) رجمنٹ کا دورہ کیا، جہاں یہ تاریخی تصویر لی گئی۔ تصویر میں بریگیڈیئر اکبر دائیں جانب فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِ اعظم کو اینٹی ایئرکرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔
اس منفرد اعزاز کی وجہ سے 5 ہیوی رجمنٹ پاکستان آرمی کی واحد یونٹ ہے جس کا معائنہ "سلام فنگ" (Present Arms) کی پوزیشن میں کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان آرمی، بحریہ اور فضائیہ کی دیگر تمام یونٹس اور اداروں میں "بازو فنگ" کی پوزیشن اختیار کی جاتی ہے۔
19/06/2026
تصویر میں سامنے والی قطار کی دوسری نشست پر بیٹھے نوجوان افسر سید عاصم منیر ہیں۔
جب یہ تصویر لی گئی، اُس وقت وہ بی ایس یو او (Battalion Senior Under Officer) کے لیے مخصوص نشست پر موجود تھے۔
آج وہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف (COAS)، چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) اور فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز ہیں۔
سید عاصم منیر پاکستان کی تاریخ کے پہلے آرمی چیف ہیں جنہوں نے آرمی چیف بننے سے قبل ڈی جی ایم آئی (DGMI) اور ڈی جی آئی ایس آئی (DG ISI) دونوں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں۔
یہ تصویر اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ محنت، صلاحیت اور قیادت انسان کو بلند ترین مناصب تک پہنچا سکتی ہے۔
"وقت گواہ ہے کہ عظیم قیادت کا سفر عزم اور لگن سے شروع ہوتا ہے۔" 🇵🇰
19/06/2026
پاکستانی اور انڈین, پی اے ایف آفیسرز میس، پشاور — ستمبر 1965
جنگ بندی کے فوراً بعد لی گئی یہ ایک یادگار تصویر ہے، جو دونوں جانب کے فضائی اہلکاروں کے درمیان موجود پیشہ ورانہ وقار، باہمی احترام اور عسکری روایات کی عکاسی کرتی ہے۔
تصویر میں گروپ کیپٹن ایم اے ڈوگر، ونگ کمانڈر ایم اے سکندر، ونگ کمانڈر ایم افضل، اور بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ارجن سنگھ نظر آ رہے ہیں، جو پاک فضائیہ کے کمانڈر اِن چیف ایئر مارشل نور خان کی دعوت پر پشاور آئے تھے۔
ایئر کموڈور ایم افضل، جنہیں بعد میں پاک فضائیہ کے بہترین بیس کمانڈرز میں شمار کیا گیا، 1965 کی جنگ کے دوران ایئر مارشل نور خان کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) رہے اور بعد ازاں ان کے ملٹری سیکریٹری کے فرائض بھی انجام دیے۔
اس موقع سے وابستہ ایک دلچسپ یاد یہ بھی ہے کہ ایئر چیف مارشل ارجن سنگھ، جن کا تعلق اصل میں لائل پور (موجودہ فیصل آباد) سے تھا، نے درخواست کی کہ انہیں آفیسرز میس کے اُس برآمدے میں چند لمحے تنہائی میں گزارنے دیے جائیں جہاں وہ 1930 کی دہائی میں شمال مغربی سرحدی صوبے (NWFP) میں اپنی تعیناتی کے دوران رہ چکے تھے۔ وہاں بیٹھ کر وہ ماضی کی یادوں میں کھو گئے اور اپنے بیتے ہوئے دنوں کو یاد کرتے رہے۔
یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جنگ اور اختلافات کے باوجود وقار، احترام اور سپاہیانہ روایات ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں۔
بعض تصویریں صرف تاریخ نہیں ہوتیں، بلکہ کردار، شرافت اور انسانیت کی گواہ بھی ہوتی ہیں۔
18/06/2026
Is option k bray koe bhai smjha day .