Life In Madinah Al munawara

Life In Madinah Al munawara

Share

Welcome to our page. please Do follow and like our page. JazakALLAH khair �

Watsapp group

https://chat.whatsapp.com/DHh1VO2CNEh30bIQezPSuj?mode=gi_t

24/06/2026

مسجدِ قباء - وہ مسجد جو آپ ﷺ نے خود تعمیر فرمائی!

مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مجھے کئی بار مسجدِ قباء جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جب بھی اس مبارک مسجد میں حاضر ہوتا، دل کو ایک عجیب سکون اور روحانی خوشی محسوس ہوتی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد اپنے دستِ مبارک سے رکھی تھی۔

مسجدِ قباء کے پرسکون ماحول میں نوافل ادا کرتے ہوئے بار بار یہ خیال آتا تھا کہ اسی مقام پر ہمارے پیارے نبی ﷺ تشریف لائے، نماز ادا فرمائی اور صحابہ کرامؓ کے ساتھ اس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق جو شخص وضو کرکے مسجدِ قباء میں دو رکعت نماز ادا کرے، اسے ایک عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔

ہر حاضری کے ساتھ دل میں شکر کے جذبات بڑھتے گئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بابرکت مقام پر بار بار آنے کی توفیق عطا فرمائی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو مسجدِ قباء کی حاضری اور یہاں عبادت کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔




24/06/2026

مسجدِ بلال (جو کہ مدینہ منورہ میں واقع ہے) کی اہمیت اور فضیلت اسلامی تاریخ میں بہت خاص ہے۔ یہ مسجد رسول اللہ ﷺ کے مؤذنِ خاص، **حضرت بلال حبشی (رضی اللہ عنہ)** کے نام سے منسوب ہے۔
اردو میں اس کی فضیلت اور اہم نکات درج ذیل ہیں:
# # # ۱. حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) سے نسبت
اس مسجد کی سب سے بڑی فضیلت اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلام کے پہلے مؤذن، حضرت بلال حبشی (رضی اللہ عنہ) کے نام سے جڑی ہے۔ حضرت بلال وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اسلام کی راہ میں بے مثال تکلیفیں برداشت کیں اور نبی کریم ﷺ ان سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ ان کے نام پر ہونا ہی اس جگہ کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے۔
# # # ۲. مقامِ اذان اور تاریخی حیثیت
تاریخی روایات کے مطابق، یہ مسجد اس مقام کے قریب یا اسی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے جہاں حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) رسول اللہ ﷺ کے دورِ مبارک میں اذان دیا کرتے تھے یا جہاں ان کا قیام تھا۔ اس جگہ سے اذانِ محمدی کی روحانی یادیں اور اسلام کی ابتدائی تاریخ وابستہ ہے۔
# # # ۳. مسجدِ نبوی ﷺ سے قربت
یہ مسجد، مسجدِ نبوی شریف کے بالکل قریب (جنوب یعنی ساؤتھ کی جانب) واقع ہے۔ مدینہ منورہ آنے والے زائرین مسجدِ نبوی ﷺ میں حاضری کے ساتھ ساتھ اس تاریخی مسجد کی زیارت کو بھی اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔
> **خلاصہ:**
> مسجدِ بلال محض ایک عبادت گاہ ہی نہیں، بلکہ اسلام کے عظیم مجاہد، مخلص صحابی اور عاشقِ رسول ﷺ حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) کی عظمت، ایثار اور اذانِ حق کی ایک مقدس یادگار ہے، جو مومنین کے دلوں میں ایمان اور محبتِ رسول ﷺ کو تازہ کرتی ہے۔



24/06/2026

جلد آرہا ہے: غُسلِ کعبہ کی بابرکت تقریب، اگلے ہفتے۔
دنیا کی چند نایاب اور روح پرور تقریبات میں سے ایک، غُسلِ کعبہ کی بابرکت تقریب ان شاء اللہ اگلے ہفتے منعقد ہوگی۔
یہ وہ خصوصی موقع ہے جب خانۂ کعبہ کے اندرونی حصے کو آبِ زمزم اور عرقِ گلاب سے دھویا جاتا ہے، اور یہ ایک قدیم اور باوقار روایت ہے جو ہر سال ادا کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار اپنے مقدس گھر کی حاضری نصیب فرمائے اور اس کی برکتوں سے مالامال فرمائے۔ آمین۔

24/06/2026

اردو ترجمہ:
جس جگہ کو دائرے میں دکھایا گیا ہے، اسے "دار الندوہ" کہا جاتا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں قریش کے بڑے سردار اہم فیصلوں اور مشاورت کے لیے جمع ہوتے تھے۔
جب نبی کریم ﷺ کی دعوتِ اسلام مکہ میں تیزی سے پھیلنے لگی تو قریش کے کافروں نے اسے اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا۔
چنانچہ ایک رات وہ دار الندوہ میں جمع ہوئے تاکہ یہ طے کریں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا کیا جائے۔
ابتدا میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں:
آپ ﷺ کو قید کر دیا جائے۔
آپ ﷺ کو مکہ سے جلاوطن کر دیا جائے۔
لیکن ابلیس ایک بوڑھے شخص کا بھیس بدل کر اس مجلس میں آیا اور اس نے ان تمام تجاویز کو رد کر دیا۔ اس نے اس سے بھی زیادہ سنگین تجویز پیش کی کہ نبی کریم ﷺ کو شہید کر دیا جائے۔
قریش نے اس منصوبے کو قبول کر لیا اور اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو محفوظ رکھا اور ان کی سازش ناکام بنا دی۔
دار الندوہ مسجد الحرام کے شمالی جانب واقع تھا۔ بعد میں دوسری صدی ہجری میں ابو جعفر المنصور کے دور میں مسجد الحرام کی توسیع کے دوران اس مقام کو مسجد الحرام میں شامل کر دیا گیا۔

24/06/2026

‏اللهم صل وسلم على نبينا محمد ﷺ

24/06/2026

سچ بتانا آپ پہلی بار کونسے مہینے اور کونسے سال میں سعودی عرب گئے تھے میں 26 اگست 2023 کو

24/06/2026

غزوۂ احد کا مکمل منظرنامہ
یثرب کی ہواؤں میں اب وہ پہلے جیسی سادگی اور بیابانی سکون نہیں رہا تھا، بلکہ مدینۃ الرسول ﷺ کے کوچوں میں ایک گہری، پُر وقار اور کسی حد تک سنسنی خیز خاموشی کا راج تھا، جس کے پیچھے طوفان کی آہٹیں صاف سنی جا سکتی تھیں۔ ہجرت کا تیسرا سال اپنی تمام تر تلخیوں اور امیدوں کے ساتھ رواں دواں تھا۔ مدینہ، جو کھجور کے گنے باغات، سنگلاخ لاوے کی چٹانوں (حرّات) اور نم آلود وادیوں کے درمیان گھرا ایک نخلستان تھا، اس وقت ایک ایسے سیاسی اور سماجی نظام کا گہوارہ بن چکا تھا جس نے عرب کے پرانے بتوں کو لرزا دیا تھا۔ مکہ کی سنگین وادیوں میں، جہاں قریش کا غرور ایک سال پہلے بدر کے کنوؤں پر خاک میں مل چکا تھا، انتقام کی آگ دھیمی پڑنے کے بجائے مزید بھڑک اٹھی تھی۔ ابو سفیان کی قیادت میں قریش کے سرداروں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک بدر کے مقتولین کا بدلہ نہیں لیا جائے گا، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ مکہ کے تجارتی قافلے، جو شام کی طرف جاتے ہوئے مدینہ کی شاہراہ پر مسلم اقتدار کی وجہ سے محصور ہو چکے تھے، اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ قریش نے اپنی پوری دولت، حلیف قبائل (احابیش) کی قوت اور اپنے تمام تر جنگی وسائل کو یکجا کر کے تین ہزار جنگجوؤں کا ایک ایسا لشکرِ جرار تیار کیا تھا جس کا ہدف صرف ایک تھا: اسلام کی اس نئی بستی کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا۔
سرحدوں پر قریش کے لشکر کی پیش قدمی کی خبریں جب مدینہ پہنچیں تو فضا میں ایک عجیب سی تڑپ اور جوش پھیل گیا۔ قریش کا یہ لشکر مکہ سے شمال کی طرف بڑھتا ہوا، عقیق کی وسیع وادی کو پار کر کے، مدینہ کے شمال مغربی رخ پر واقع احد کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں خیمہ زن ہو چکا تھا۔ احد، جو مدینہ کی مسجدِ نبوی سے شمال کی جانب تقریباً ساڑھے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، کوئی عام پہاڑ نہیں تھا۔ یہ سرخ اور سرمئی چٹانوں کا ایک طویل، کٹیلا اور ہیبت ناک سلسلہ تھا جو مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوا تھا، جیسے مدینہ کی پشت پر کوئی قدرتی فصیل کھڑی ہو۔ اس پہاڑ کے دامن میں وادیِ قَنات بہتی تھی، جہاں خشک موسم میں بھی زیرِ زمین نمی اور کہیں کہیں پانی کے چشمے موجود رہتے تھے۔ قریش نے اسی وادی کے سبزہ زاروں میں اپنے اونٹ اور گھوڑے چرنے کے لیے چھوڑ دیے اور مسلمانوں کی کھیتیوں کو پامال کرنا شروع کر دیا۔ مدینہ کے اندر، سیاسی بساط پر منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ الگ تھلگ ہو کر سازشوں کے تانے بانے بن رہا تھا، جس نے عین وقت پر مسلم لشکر کا ساتھ چھوڑ کر اسلامی صفوں میں دراڑ ڈالنے کی ناپاک کوشش کی، جس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف سات سو جان نثار رہ گئے تھے۔
شوال کی ایک تپتی ہوئی صبح تھی جب مدینہ کے گلی کوچوں سے اِنصار اور مہاجرین کے قافلے نکلے۔ ہوا میں لو کے تھپیڑے تھے اور پاؤں کے نیچے تپتی ہوئی ریت اور سیاہ چٹانیں (حرہ واقم) دہک رہی تھیں۔ مسلمانوں کا یہ مٹھی بھر لشکر، جس کے پاس صرف دو گھوڑے اور چند زرہیں تھیں، اپنے جلیل القدر قائد، محمد مصطفیٰ ﷺ کی معیت میں احد کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس لشکر میں بڈھے عزم و ہمت کے پہاڑ تھے اور جوانوں کے چہروں پر شہادت کی تڑپ۔ احد کے میدان میں پہنچ کر، رسول اللہ ﷺ نے عسکری جینیئس کا وہ مظاہرہ کیا جو تاریخِ حرب کا سنہرا باب ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی پشت احد کے عظیم پہاڑی سلسلے کی طرف رکھی، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر سکے۔ لیکن احد کے بائیں جانب ایک چھوٹا سا پہاڑی ٹیلہ تھا، جسے 'جبلِ رماۃ' (تیر اندازوں کا پہاڑ) یا جبلِ عینین کہا جاتا تھا، جو وادیِ قنات کے دھانے پر واقع تھا اور یہاں سے قریش کا گھڑ سوار دستہ مسلمانوں کے عقب پر حملہ کر سکتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس سٹرٹیجک نقطے کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے عبداللہ بن جبیر کی قیادت میں پچاس ماہر تیر اندازوں کو وہاں تعینات کر دیا اور انھیں سخت تاکید کی کہ "خواہ تم دیکھو کہ پرندے ہماری بوٹیاں نوچ رہے ہیں، تم اپنی یہ جگہ اس وقت تک نہ چھوڑنا جب تک میں تمہیں بلا نہ بھیجوں، خواہ ہم جیتیں یا ہاریں، تم نے یہاں سے نہیں ہلنا۔"
میدانِ جنگ اب پوری طرح سج چکا تھا اور دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا تھے۔ قریش کے لشکر کا میمنہ (دایاں حصہ) مکہ کے سب سے ذہین اور خطرناک گھڑ سوار خالد بن ولید کے پاس تھا، جبکہ میسرہ (بایاں حصہ) عکرمہ بن ابی جہل کی کمان میں تھا۔ ان کے مرکز میں صفوان بن امیہ اور ابو سفیان تھے، اور ان کے پیچھے قریش کی عورتیں، جن کی قیادت ابو سفیان کی بیوی ہندہ کر رہی تھی، دف بجا بجا کر اپنے مردوں کو بدر کا انتقام یاد دلا رہی تھیں اور جوش دلا رہی تھیں کہ "اگر تم آگے بڑھو گے تو ہم گلے لگائیں گی، اور اگر تم پیٹھ پھیرو گے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گی۔" ان کے مقابل، مسلمانوں کی صفوں میں ایمان کا نور چمک رہا تھا۔ زرہ پوش اسد اللہ، حمزہ بن عبدالمطلب غصے سے بپھرے شیر کی طرح وسط میں کھڑے تھے، علی بن ابی طالب کے ہاتھ میں ذوالفقار چمک رہی تھی، اور مصعب بن عمیر کے ہاتھوں میں اسلام کا سفید علم لہرا رہا تھا۔ فضا میں تلواروں کی جھنکار، گھوڑوں کے ہنھنانے اور نعرہ ہائے تکبیر کی گونج سے احد کی چٹانیں لرز اٹھیں۔
جنگ کا آغاز روایتی طور پر مبارزت (انفرادی مقابلے) سے ہوا۔ قریش کا علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ العبدری اونٹ پر سوار ہو کر آگے بڑھا اور مقابلے کی دعوت دی۔ مسلم صفوں سے زبیر بن العوام عقاب کی طرح جھپٹے، اس کے اونٹ پر چھلانگ لگائی، اسے زمین پر پچھاڑا اور پلک جھپکتے میں اس کا کام تمام کر دیا۔ اس کے بعد قریش کے بنو عبدالدار کے بارہ علمدار ایک کے بعد ایک آگے بڑھے، لیکن علی، حمزہ اور عاصم بن ثابت جیسے شمشیر زنوں نے ان سب کو خاک و خون میں ملا دیا۔ علمداروں کے گرتے ہی عام جنگ چھڑ گئی۔ سید الشہدا حضرت حمزہ دونوں ہاتھوں میں تلواریں لیے قریش کی صفوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔ وہ جدھر رخ کرتے، لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ اسی اثنا میں، جبیر بن مطعم کا حبشی غلام وحشی، جو اپنی آزادی کے عوض حمزہ کے خون کا پیاسا تھا، ایک چٹان کے پیچھے گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ جیسے ہی حمزہ ایک مشرک جنگجو پر وار کرنے کے لیے آگے بڑھے، وحشی نے اپنا چھوٹا حربہ (نیزہ) پوری قوت سے پھینکا، جو حضرت حمزہ کے ناف کے نیچے لگا اور پشت سے پار ہو گیا۔ اسلام کا یہ عظیم شیر زمین پر گرا، تڑپا اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
حمزہ کی شہادت کے باوجود مسلمانوں کے قدم نہیں اکھڑے، بلکہ ان کا غیظ و غضب مزید بڑھ گیا۔ ابو دجانہ، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار دی تھی، سر پر موت کی سرخ پٹی باندھے مشرکین کی صفوں میں قہر بن کر ٹوٹ رہے تھے۔ ان کے سامنے جو بھی آتا، وہ اسے کاٹ کر رکھ دیتے۔ مسلمانوں کے شدید اور پے در پے حملوں نے قریش کے پیر اکھڑ دیے۔ تین ہزار کا لشکرِ جرار سات سو جان نثاروں کے سامنے بے بس ہو کر بھاگنے لگا۔ قریش کی عورتیں چیختی ہوئی پہاڑیوں کی طرف بھاگیں اور مشرکین اپنا مال و اسباب، خیمے اور اونٹ چھوڑ کر میدان سے فرار ہو گئے۔ مسلمانوں کے لیے یہ فتح کا لمحہ تھا، لیکن یہی وہ موڑ تھا جہاں تاریخ نے ایک ہولناک کروٹ لی۔ میدان میں بکھرے ہوئے مالِ غنیمت کو دیکھ کر، جبلِ رماۃ پر تعینات تیر اندازوں کے دلوں میں خلش پیدا ہوئی۔ انھوں نے سوچا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور اب مالِ غنیمت جمع کرنے کا وقت ہے۔ ان کے امیر عبداللہ بن جبیر نے انھیں رسول اللہ ﷺ کا سخت حکم یاد دلایا، لیکن چالیس کے قریب تیر انداز پہاڑی سے نیچے اتر آئے۔
خالد بن ولید، جو ایک گہری اور عقابی نظر کے ساتھ میدان کا جائزہ لے رہے تھے، انھوں نے دیکھا کہ جبلِ رماۃ اب تقریباً خالی ہو چکا ہے اور وہاں صرف دس کے قریب سرفروش باقی ہیں۔ خالد نے موقع کو غنیمت جانا، اپنے سواروں کا رخ موڑا، احد پہاڑ کا چکر کاٹ کر پیچھے سے جبلِ رماۃ پر حملہ کر دیا۔ عبداللہ بن جبیر اور ان کے باقی ماندہ ساتھیوں کو شہید کرنے کے بعد، خالد کا یہ گھڑ سوار دستہ فتح کے نشے میں چور اور مالِ غنیمت سمیٹتے ہوئے مسلمانوں کے عقب پر بجلی بن کر گرا۔ بھاگتے ہوئے قریش نے جب دیکھا کہ ان کے سواروں نے مسلمانوں کو پیچھے سے گھیر لیا ہے، تو وہ بھی پلٹ آئے۔ اب مسلمان دونوں طرف سے دشمن کے نرغے میں آ چکے تھے۔ وہ جو ابھی کچھ دیر پہلے فاتح تھے، اب افراتفری اور حیرت کا شکار ہو گئے۔ گرد و غبار کا ایک ایسا طوفان اٹھا جس میں اپنے اور بیگانے کی تمیز ختم ہو گئی۔ فضا نعروں، چیخوں اور لوہے کے ٹکرانے کی آوازوں سے ہولناک ہو گئی۔
اسی نفسا نفسی کے عالم میں، قریش کے ایک جنگجو ابنِ قمیہ نے مصعب بن عمیر کو شہید کر دیا، جو شکل و صورت میں رسول اللہ ﷺ سے مشابہت رکھتے تھے۔ ابنِ قمیہ نے چلا کر کہا: "میں نے محمد کو قتل کر دیا ہے!" اس افواہ نے مسلمانوں کی کمر توڑ دی۔ کئی جلیل القدر صحابہ کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ گئیں اور وہ نڈھال ہو کر بیٹھ گئے کہ جب رسول اللہ ہی نہ رہے تو اب لڑ کر کیا کرنا۔ لیکن اس تاریکی میں بھی کچھ ایسے پروانے تھے جن کا ایمان احد کے پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔ انس بن نضر نے جب صحابہ کو مایوس دیکھا تو غرج دار آواز میں کہا: "اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے، تو ان کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے؟ اٹھو اور اسی چیز پر مر مٹو جس پر وہ مر مٹے۔" یہ کہہ کر وہ دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور اسی سے زائد زخم کھا کر جامِ شہادت نوش کیا۔
حقیقت یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ زندہ تھے، لیکن دشمن کے نرغے میں شدید زخمی ہو چکے تھے۔ قریش کے عتبہ بن ابی وقاص نے آپ ﷺ پر پتھر پھینکا جس سے آپ کا دندانِ مبارک شہید ہو گیا اور نیچے کا ہونٹ زخمی ہو گیا۔ عبداللہ بن شہاب نے آپ کے پیشانیِ مبارک کو زخمی کیا اور ابنِ قمیہ نے تلوار کا ایسا زوردار وار کیا کہ آپ کی خود (لوہے کی ٹوپی) کے دو حلقے آپ کے رخسارِ مبارک میں دھنس گئے اور آپ ایک گڑھے میں گر گئے۔ اس نازک ترین لمحے میں، رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد صرف چند جان نثار باقی رہ گئے تھے جنھوں نے اپنے جسموں کو ڈھال بنا لیا۔ طلحہ بن عبید اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر آنے والے ہر وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، یہاں تک کہ ان کا ہاتھ ہمیشہ کے لیے شل ہو گیا اور ان کے جسم پر اسی سے زیادہ زخم آئے۔ ابو دجانہ نے آپ ﷺ پر جھک کر اپنی پیٹھ کو ڈھال بنا لیا، تیر ان کی پیٹھ پر آ کر لگتے رہے لیکن انھوں نے جنبش تک نہ کی۔ سعد بن ابی وقاص رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے تیر چلا رہے تھے اور آپ ﷺ خود انھیں تیر پکڑاتے ہوئے فرما رہے تھے: "سعد! تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں!" اسی دوران ایک جٹس خاتون، ام عمارہ (نسیبہ بنت کعب) نے تلوار اور ڈھال سنبھال کر رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھنے والے مشرکین کو پیچھے دھکیلا اور اپنے جسم پر گہرے زخم کھائے۔
بالآخر، کعب بن مالک نے غبار کے پیچھے سے رسول اللہ ﷺ کی چمکتی ہوئی آنکھوں کو پہچانا اور اونچی آواز میں پکارا: "اے مسلمانو! خوش ہو جاؤ، یہ ہیں رسول اللہ ﷺ!" اس آواز کا سننا تھا کہ بکھرے ہوئے صحابی دیوانہ وار اپنے محبوب قائد کی طرف لپٹے۔ ابو بکر صدیق، عمر فاروق، علی بن ابی طالب، ابو عبیدہ بن الجراح اور مالک بن سنان نے آپ ﷺ کو اپنے حصار میں لیا۔ ابو عبیدہ نے اپنے دانتوں سے رسول اللہ ﷺ کے رخسار میں دھنسے ہوئے لوہے کے حلقے نکالے، جس میں ان کے اپنے دو دانت ٹوٹ گئے۔ فاطمۃ الزہرا نے مدینہ سے آ کر آپ ﷺ کے زخموں کو دھویا اور جب خون نہ رکا تو کھجور کی چٹائی جلا کر اس کی راکھ زخم پر رکھی، تب جا کر خون تھما۔
مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا گروپ رسول اللہ ﷺ کو حفاظت کے ساتھ احد کے ایک پہاڑی درے (شِعبِ احد) کی طرف لے گیا، جہاں دشمن کے گھڑ سواروں کا پہنچنا ناممکن تھا۔ ابو سفیان پہاڑ کے دامن میں آیا اور بلند آواز میں پکارا: "کیا تم میں محمد ہیں؟ کیا تم میں ابنِ ابی قحافہ (ابو بکر) ہیں؟ کیا تم میں عمر ہیں؟" جب رسول اللہ ﷺ کے حکم پر خاموشی اختیار کی گئی تو ابو سفیان نے مغرورانہ انداز میں کہا: "یہ سب مارے گئے، اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔" اس پر عمر فاروق اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور چلا کر کہا: "او اللہ کے دشمن! تو جھوٹا ہے، جن کا تو نے نام لیا وہ سب زندہ ہیں اور تیری رسوائی کے لیے ابھی باقی ہیں۔" ابو سفیان نے اپنے بت کا نعرہ لگایا: "اعلُ ہبل!" (ہبل بلند رہے!)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اسے جواب دو!" صحابہ نے پوچھا: "کیا کہیں یا رسول اللہ؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "کہو، اللہُ اعلٰی واجلّ!" (اللہ سب سے بلند اور بزرگ ہے)۔ پھر ابو سفیان نے کہا: "لنا العُزّٰی ولا عُزّٰی لکم!" (ہمارے پاس عزیٰ بت ہے اور تمہارے پاس کوئی عزیٰ نہیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کہو، اللہُ مَولانَا ولا مَولٰی لکم!" (اللہ ہمارا کارساز ہے اور تمہارا کوئی کارساز نہیں)۔
جنگ ختم ہو چکی تھی، قریش فتح کا دعویٰ کرتے ہوئے مکہ کی طرف لوٹ رہے تھے کیونکہ وہ مدینہ کے اندر داخل ہونے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن میدانِ احد کا منظر نامہ اب انتہائی دلدوز اور سسکیاں لیتا ہوا تھا۔ ستر صحابہ کرام کی لاشیں تپتی ہوئی ریت پر بکھری پڑی تھیں۔ قریش کی عورتوں نے، بالخصوص ہندہ نے، مسلم شہدا کے کان اور ناک کاٹ کر ہار بنائے تھے اور حضرت حمزہ کا سینہ چاک کر کے ان کا کلیجا چبانے کی ناپاک کوشش کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ جب اپنے چچا حمزہ کی مسخ شدہ لاش کے سامنے کھڑے ہوئے، تو آپ کی آنکھوں سے انسوؤں کا سیلاب رواں ہو گیا اور آپ نے فرمایا کہ "اے چچا! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ قرابت داروں کے حقوق کا خیال رکھنے والے اور نیک کاموں میں پیش پیش رہنے والے تھے۔"
اسی میدان میں مصعب بن عمیر کی لاش بھی پڑی تھی، وہ مصعب جو مکہ کا سب سے امیر اور خوش لباس نوجوان تھا، آج اس کے کفن کے لیے صرف ایک چھوٹی سی چادر تھی، جسے اگر سر پر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں پر ڈالا جاتا تو سر کھل جاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے سر کو چادر سے ڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر کی گھاس ڈال دو۔ احد کا یہ تپتا ہوا میدان ان سرفروشوں کا مسکن بن گیا جنھوں نے اطاعتِ رسول کی ایک لغزش کی کتنی بھاری قیمت چکائی تھی، لیکن ان کا یہ خون رائیگاں نہیں گیا۔ احد نے مسلمانوں کو وہ ابدی سبق دیا جس نے آگے چل کر انھیں پوری دنیا کا فاتح بنا دیا۔ زمین کی نمی اب سوکھ رہی تھی، شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، اور احد کا پہاڑ خاموشی سے تاریخ کے اس سب سے بڑے، جرات مندانہ اور سبق آموز معرکے کی گواہی دے رہا تھا، جس کی گونج آج بھی وقت کے سینے پر سنائی دیتی ہے۔



Want your business to be the top-listed Government Service in Medina?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


KSA
Medina
41412