The Justice Ledger

The Justice Ledger

Share

An individual in Persuit of Justice. A dynamic news channel in Urdu.

Rajanpur Today is a Pakistani news channel committed to bring you up-to-the minute news & featured stories from around Pakistan & all over the world.

Photos from The Justice Ledger's post 16/06/2026

کل ہم نے پنجاب ہائی پٹرولنگ پولیس کی چند کالی بھیڑوں کی نشاندہی کہ کیسے فاضل پور ٹول پلازہ کے ساتھ ان کی چیک پوسٹ عام عوام اور ٹرانسپورٹرز کے لیئے درد سر بنی ہوئی ہے اور کس طرح سرعام ٹرانسپورٹرز اور عام عوام سے بھتہ لے رہے ہیں۔ ہم پنجاب ہائی پٹرولنگ پولیس کے اعلی حکام
کے مشکور ہیں جنہوں نے اس واقعےکو سنجیدگی
سے لیا اور مکمل انکوائری کی یقین دہانی کرائی۔ اور ہماری شکایت کو محکمے سے کالی بھیڑوں کو نکالنے کی سنجیدہ کوشش قرار دیا اور ہماری اس کوشش کو سراہا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جو بھی اس طرح کے معاملات میں ملوث ہوا اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

15/06/2026
15/06/2026

پنجاب ہائی پٹرولنگ پولیس فاضل پور، راجن پور میں بھتا خوری کرتے ہوئے۔ پھر کہتے ہیں عوام ہم پر تنقید نا کرے۔

15/06/2026

پنجاب ہائی پٹرولنگ کی بھتہ خوری کے ثبوت۔
لوکیشن فاضل پور ٹول پلازہ

15/06/2026

راجن پور اور گردونواح کے علاقوں میں عوام اور بالخصوص ٹرانسپورٹرز کے لیے سفر کرنا ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔ پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے "چیکنگ" کے نام پر مبینہ بھتہ خوری کا بازار گرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔​فاضل پور ٹول پلازہ کے دونوں اطراف پٹرولنگ پولیس والے کی غیر قانونی چیک پوسٹ کی وجہ سے​ ٹول پلازہ پر گاڑیوں کی طویل لائنیں اور گھنٹوں کا انتظار روز کا معمول بن چکا ہے۔ ٹول پلازہ انتظامیہ کی سست روی اور ملی بھگت کے باعث شہریوں کا قیمتی وقت اور ایندھن ضائع ہو رہا ہے۔ ​​سب سے سنگین صورتحال ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے رویے کی ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے دہائی دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سڑکوں پر تحفظ فراہم کرنے کے بجائے پٹرولنگ پولیس نے ان کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ گاڑیوں کو بلاوجہ چیکنگ کے نام پر روکا جاتا ہے۔ موقع اور گاڑی کی نوعیت دیکھ کر 100 روپے سے لے کر 2000 روپے تک کی "ڈیل" کی جاتی ہے۔ جہاں بات بن جائے، گاڑی کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

​۔

15/06/2026

راجن پور: ٹول پلازوں کی بھرمار اور پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کی مبینہ بھتہ خوری، عوام اور ٹرانسپورٹرز شدید پریشان۔
​راجن پور (نمائندہ خصوصی)
راجن پور اور گردونواح کے اضلاع میں عوام اور بالخصوص ٹرانسپورٹرز کے لیے سفر کرنا ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔ ایک طرف ٹول پلازوں کی بھر مار نے جیبیں خالی کر دیں تو دوسری طرف پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے "چیکنگ" کے نام پر مبینہ بھتہ خوری کا بازار گرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔​فاضل پور ٹول پلازہ کے دونوں اطراف پٹرولنگ پولیس والے کی وجہ سے​ ٹول پلازہ پر گاڑیوں کی طویل لائنیں اور گھنٹوں کا انتظار روز کا معمول بن چکا ہے۔ ٹول پلازہ انتظامیہ کی سست روی اور ملی بھگت کے باعث شہریوں کا قیمتی وقت اور ایندھن ضائع ہو رہا ہے۔ ​​سب سے سنگین صورتحال ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے رویے کی ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے دہائی دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سڑکوں پر تحفظ فراہم کرنے کے بجائے پٹرولنگ پولیس نے ان کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ گاڑیوں کو بلاوجہ چیکنگ کے نام پر روکا جاتا ہے۔ موقع اور گاڑی کی نوعیت دیکھ کر 100 روپے سے لے کر 2000 روپے تک کی "ڈیل" کی جاتی ہے۔ جہاں بات بن جائے، گاڑی کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
​شہریوں اور ٹرانسپورٹ یونینز کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ عوامی شکایات اور احتجاج پر ماضی میں کئی بار راشی اہلکاروں کو معطل بھی کیا گیا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ دوبارہ اپنے عہدوں پر بحال ہو کر اسی طرح لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں۔
اہلکاروں کی معطلی کے بعد دوبارہ بحالی کسی سزا کا نتیجہ نہیں بلکہ مبینہ طور پر اوپر تک 'حصہ' پہنچانے کا شاخسانہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید افسران بالا کا حصہ کم ہونے پر معطلی کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور جیسے ہی 'حصے' میں اضافہ یا ڈیل فائنل ہوتی ہے، ان راشی اہلکاروں کو دوبارہ عوام کو لوٹنے کے لیے بحال کر دیا جاتا ہے۔"
​وزیر اعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ
​راجن پور کے تاجروں، ٹرانسپورٹ یونین اور عام شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ راجن پور اور جام پور کی شاہراہوں پر قائم اس بھتہ خور نیٹ ورک کا فوری خاتمہ کیا جائے، فاضل پور ٹول پلازہ پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے اور ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف محض معطلی نہیں بلکہ نوکری سے برخاستگی اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Photos from The Justice Ledger's post 15/06/2026

کھیلتا پنجاب "پنک گیمز"، مریم نواز شریف سپورٹس سٹی ، سی ایم پنجاب یوتھ گیمز، 18 سپورٹس اکیڈمیز اور قومی کھیل ہاکی کی بحالی۔ یہ سب پنجاب گورنمنٹ کے کھیلوں کی فروغ
کے لیئے شروع کیے گئے اقدامات ہیں۔

راجنپور: "کھیلوں کے میدان آباد کرنے" کے حکومتی دعوے ہوا میں اڑ گئے، محکمہ کھیل افسران سے محروم
​راجنپور (نمائندہ خصوصی)
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے "کھیلوں کے میدان آباد کرنے" اور کچہ آپریشن کے بعد راجنپور کے نوجوانوں کو بندوق کلچر سے نکال کر کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے بلند و بانگ وعدے زمین بوس ہو گئے۔ راجنپور میں کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ افسران کی عدم تعیناتی اور انتظامی نااہلی کے باعث شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
​افسران کی سیٹیں خالی، انتظامی خلا برقرار
​ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں۔ راجنپور میں ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر (DSO) کی اہم ترین سیٹ طویل عرصے سے خالی پڑی ہے، جبکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ضلع کی تمام تحصیلوں میں تحصیل سپورٹس آفیسران (TSOs) کے عہدے بھی خالی ہیں متبادل کے طور پر کوئی مستقل تکنیکی کایا پلٹ کرنے والا افسر موجود نہیں ہے۔
​کلرک اور نائب قاصد سیاہ و سفید کے مالک
​اعلیٰ اور تکنیکی عہدوں پر افسران کی عدم موجودگی کے باعث محکمہ کھیل کا پورا نظام نچلے درجے کے ملازمین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ راجنپور اور اس کی تحصیلوں میں انتظامی عہدوں پر نائب قاصد اور کلرک براجمان ہیں، جنہیں نہ تو کھیلوں کی باریکیوں کا علم ہے اور نہ ہی نوجوانوں کی رہنمائی کی صلاحیت۔
​کھلاڑیوں کی بلیک میلنگ اور مایوسی کا راج
​مقامی کھلاڑیوں اور کھیلوں کے شوقین نوجوانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان سفارشی اور غیر متعلقہ ملازمین نے کھیلوں کے گراؤنڈز اور فنڈز کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے۔ کھیلوں کے انعقاد یا گراؤنڈز کے استعمال کے لیے آنے والے نوجوانوں اور کلبز کو شدید بلیک میلنگ اور ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کچہ اور گردونواح کے نوجوان گراؤنڈز سے دور ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں۔​اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ۔ ​راجنپور کے عوامی و سماجی حلقوں اور کھلاڑیوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری سپورٹس پنجاب اور ڈپٹی کمشنر راجن پور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ​راجنپور میں فوری طور پر مستقل اور ایماندار ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر تعینات کیا جائے۔​تمام تحصیلوں میں میرٹ پر تحصیل سپورٹس آفیسران بھیجے جائیں۔ ​گراؤنڈز پر قابض بلیک میلر کلرکوں اور نائب قاصدوں کے خلاف سخت محکماتی کارروائی کی جائے۔
​اگر حکومت واقعی یہاں سے کرائم کلچر کا خاتمہ چاہتی ہے، تو اسے سب سے پہلے راجنپور کے کھیلوں کے میدانوں کو ان مصلحت پسند کالی بھیڑوں سے آزاد کرانا ہوگا۔

14/06/2026

(عباس پولیس ملازم شہید ہو گیا ہے تونسہ شریف وہوا (جھنگی خود کش حملے میں اللہ پاک درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

Photos from The Justice Ledger's post 14/06/2026

ڈپٹی کمشنر نے دست بستہ گزارش ہے شہریوں کا نہیں اپنے ہاوس اور اپنے آفس کا ہی مان سماں عزت بنا لیں۔

راجن پور ضلع میں فلاحی اداروں، سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کہ ایک پبلک پارک جو ضلع کے تمام سرکاری آفسز بشمول ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس آفیسر کے آفس اور رہائشی علاقی کے بھی پاس ہے۔اگر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں یہ حال ہے تو باقی علاقوں کا تو اللہ حافظ۔
Rajanpur Police Rajanpur News Network Rajanpur Punjab News updates Border Military Police Rajanpur Rescue 1122, Rajanpur-Official District Rajanpur Mera Sohna Rajanpur

13/06/2026

DHA
بہاولپور
انصاف دیں۔ عدلیہ اور انتظامیہ کا امتحان
‏‎اس ملک میں ہر کوئی حسب توفئق فرعون ہے
گاڑی والے کی نظر میں کیڑے مکوڑے تھے جن کو روند دیا ۔۔اور گاڑی روک کر حال تک نہ پوچھا۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Riyadh