Humara Pakistan

Humara Pakistan

Share

A patriot's endeavour to spread enlightenment, reason, rationality among the fellow citizens. We are also creating awareness of road safety with responsibility.

Moreover, this effort is dedicated to spread joys, instil tolerance and promote peace.

Photos from Humara Pakistan's post 06/23/2026

ایک لمحے کی غفلت کبھی کبھی برسوں کی محنت کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔

کراچی سے رحیم یار خان جانے والا بلال جب بس سے اترا تو اسے اندازہ بھی نہ تھا کہ اس کی زندگی کی جمع پونجی سمجھے جانے والے موبائل فون لوازمات سے بھرے کارٹن بس کے سامان خانے میں رہ گئے ہیں۔ چند لمحوں بعد جب اسے احساس ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا۔ تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے سے زائد مالیت کا سامان... اور بس نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔

ایسے لمحات میں اکثر لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن بلال نے موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کیا۔

ادھر اطلاع ملی، ادھر موٹروے پولیس کے افسران متحرک ہو گئے۔ بس کا سراغ لگایا گیا، اسے روکا گیا اور گمشدہ کارٹن بحفاظت برآمد کر لیا گیا۔

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم فائیو پر ظاہر پیر کے قریب ہونے والے اس واقعے میں برآمد شدہ سامان کی مالیت 3 لاکھ 60 ہزار 300 روپے تھی۔ ملکیت کی تصدیق اور تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامان اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔

کارٹن واپس ملنے پر بلال کی آنکھوں میں خوشی اور تشکر صاف جھلک رہا تھا۔ اس نے موٹروے پولیس کی ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت، فوری ردعمل اور ذمہ دارانہ کارکردگی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔

یہ صرف ایک کارٹن کی واپسی نہیں، بلکہ اس اعتماد کی بحالی ہے جو عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کرتے ہیں۔

موٹروے پولیس... صرف سڑکوں کی محافظ نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد کی بھی نگہبان ہے۔

Photos from Humara Pakistan's post 06/22/2026

احمد عرفان اپنے گھر سے ایک عام سفر پر نکلا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد وہ ہسپتال کے بستر پر ہوگا۔ سڑک پر ہونے والی ایک معمولی سی غلطی اکثر بڑے حادثے میں بدل جاتی ہے۔

شاہ کوٹ میں مین جی ٹی روڈ نزد قلعہ شبدیو سنگھ کار اور ٹریکٹر ٹرالی کے تصادم میں 11 سالہ احمد عرفان اور 60 سالہ نسیم اختر زخمی ہو گئے۔ خوش قسمتی سے ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری موقع پر پہنچی، ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور دونوں زخمیوں کو تحصیل ہسپتال منتقل کر دیا۔
یاد رکھیں! سڑک پر چند سیکنڈ کی احتیاط کسی کی پوری زندگی بچا سکتی ہے۔

06/22/2026

چکری کے قریب ٹریلر میں آتشزدگی، موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی..

اسلام آباد سے فیصل آباد جانے والے ٹریلر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ موٹروے پولیس کے افسران نے فوری رسپانس دیتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور بڑے جانی و مالی نقصان کا خطرہ ٹال دیا۔
امدادی کارروائی کے دوران ٹریفک کی روانی بھی برقرار رکھی گئی اور صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول کر لیا گیا۔

موٹروے پولیس ہر قسم کی ہنگامی صورتحال میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

06/22/2026

موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی، 80 لاکھ روپے مالیت کی گندم برآمد

معمول کی پٹرولنگ کے دوران موٹروے پولیس ایم-5 نے لین خلاف ورزی پر دو ٹرالرز کو روکا۔ جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ دونوں گاڑیوں میں مجموعی طور پر 70 ٹن گندم پنجاب سے سندھ غیر قانونی طور پر منتقل کی جا رہی تھی۔

ترجمان موٹروے پولیس سنٹرل ریجن سید عمران احمد کے مطابق کارروائی کے دوران تقریباً 80 لاکھ روپے مالیت کی گندم برآمد کی گئی۔ اطلاع ملتے ہی محکمہ خوراک کے حکام موقع پر پہنچ گئے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد دونوں گاڑیاں، ڈرائیورز اور برآمد شدہ گندم محکمہ خوراک کے حوالے کر دی گئی۔

محکمہ خوراک کے حکام نے موٹروے پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت، مستعدی اور بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے افسران کی کارکردگی کی تعریف کی۔

قانون کی بالادستی اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے موٹروے پولیس ہمہ وقت متحرک ہے۔









Photos from Humara Pakistan's post 06/21/2026

صرف ایک ٹائر... اور ایک گھر کا چراغ بجھ گیا

اتوار کی ایک روشن صبح تھی۔ لاہور کا ایک خاندان خوشی خوشی سفر پر روانہ ہوا۔ گاڑی میں ہنسی، باتیں اور مستقبل کے منصوبے تھے۔ ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ تھا، ایک خاندان اپنے پیاروں کے درمیان تھا۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد سب کچھ بدل جائے گا۔

موٹروے ایم-3 پر اچانک گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا۔

چند سیکنڈ... بس چند سیکنڈ۔

گاڑی بے قابو ہوئی، سڑک سے نیچے اتری، اور خوشیوں سے بھرا سفر ایک دردناک سانحے میں تبدیل ہوگیا۔

سوچیے...

گھر سے نکلتے وقت کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ والد صاحب واپس گھر نہیں لوٹیں گے۔ شاید بچوں نے کہا ہوگا: "ابو جلدی واپس آنا۔"

مگر تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔

یہ حادثہ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے کہ گاڑی کا ٹائر صرف ربڑ کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ اس میں پورے خاندان کی زندگیاں سفر کرتی ہیں۔

ہم لاکھوں روپے کی گاڑی خرید لیتے ہیں، لیکن بعض اوقات چند ہزار روپے بچانے کے لیے پرانے، گھسے ہوئے یا ناقص ٹائروں پر سفر جاری رکھتے ہیں۔ یہی معمولی سی غفلت کبھی ناقابلِ تلافی نقصان بن جاتی ہے۔

آج ایک خاندان اپنے بزرگ سے محروم ہوگیا، لیکن اگر ہم اس حادثے سے سبق سیکھ لیں تو شاید کئی خاندان ایسے دکھ سے بچ جائیں۔

سفر سے پہلے ٹائروں کی حالت، ہوا کا دباؤ اور معیار ضرور چیک کریں۔

کیونکہ منزل پر پہنچنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ اور آپ کے پیارے سلامت پہنچیں۔

06/21/2026

"ابو بس پانچ منٹ پہلے گھر پہنچ جاتے تو شاید آج ہمارے ساتھ ہوتے...

یہ الفاظ ایک کمسن بچے کے تھے جو سڑک حادثے میں اپنے والد کو کھو چکا تھا۔ صرف چند منٹ بچانے کی کوشش نے ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ ایک ماں کا سہارا، بچوں کا محافظ اور خاندان کا مرکز ایک لمحے کی تیز رفتاری کی نذر ہو گیا۔
آج حکومتِ پاکستان نے موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر سابقہ حدِ رفتار بحال کر دی ہے۔ یہ فیصلہ سفری سہولت کے لیے ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔
یاد رکھیں، حدِ رفتار بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیں۔ منزل چند منٹ پہلے مل سکتی ہے، مگر اگر احتیاط نہ کی جائے تو کوئی اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ بھی سکتا ہے۔
موٹرویز پر کاروں اور ہلکی گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ مسافر اور بھاری گاڑیوں کے لیے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔
قومی شاہراہوں پر کاروں اور ہلکی گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ مسافر اور بھاری گاڑیوں کے لیے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ بحال کر دی گئی ہے۔

Photos from Humara Pakistan's post 06/20/2026

کبھی کسی ماں سے پوچھیں کہ وہ اپنے بیٹے کے گھر لوٹنے تک کتنی دعائیں مانگتی ہے...
وہ دروازے کی طرف بار بار دیکھتی ہے، فون کی گھنٹی پر چونک جاتی ہے، اور ہر سفر کے اختتام پر صرف ایک خبر سننا چاہتی ہے:
"امی! میں خیریت سے پہنچ گیا ہوں۔"
سڑکوں پر رفتار صرف ایک نمبر نہیں ہوتی، اس کے پیچھے کسی ماں کی دعا، کسی بچے کی مسکراہٹ، کسی بہن کی امید اور کسی خاندان کی خوشیاں وابستہ ہوتی ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر سابقہ حدِ رفتار بحال کر دی ہے۔
موٹرویز پر کاروں اور ہلکی گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ
موٹرویز پر مسافر اور بھاری گاڑیوں کے لیے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ
قومی شاہراہوں پر کاروں اور ہلکی گاڑیوں کے لیے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ
قومی شاہراہوں پر مسافر اور بھاری گاڑیوں کے لیے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ
لیکن یاد رکھیں...
حدِ رفتار میں اضافہ سہولت ہے، تیز رفتاری کی اجازت نہیں۔
ہر سال ہزاروں خاندان صرف چند لمحوں کی لاپرواہی کی قیمت پوری زندگی ادا کرتے ہیں۔ منزل پر چند منٹ پہلے پہنچنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ محفوظ پہنچیں۔
سیٹ بیلٹ باندھیں، رفتار پر قابو رکھیں، اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں۔
کیونکہ گھر میں کوئی آپ کا انتظار کر رہا ہے۔


06/20/2026

موٹروے پر شدید بارش احتیاط سے ڈرائیونگ کریں

Photos from Humara Pakistan's post 06/20/2026

"صرف ایک ٹائر کے پھٹنے نے چند لمحوں میں خوشیوں بھرا سفر خوف میں بدل دیا..."
حویلی لکھا کے علاقے بھومن شاہ کے قریب ایک لوڈر رکشہ ٹائر برسٹ ہونے کے باعث الٹ گیا، جس کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ گاڑی کے ٹائر صرف ربڑ کے پہیے نہیں بلکہ انسانی جانوں کے محافظ ہوتے ہیں۔

Want your business to be the top-listed Government Service in New York?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


15 Lennon Avenue Yonkers
New York, NY
10701